بھارت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے، ڈاکٹر عشرت العباد خان
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ایم پی پی کے روح رواں نے کہا کہ بھارت نے آفینس کیا پاکستان نے ڈیفنس کیا، بھارت کے فالس پروپیگنڈے کے دنیا کے سامنے پرچخے اڑ چکے ہیں، قوم اللہ تعالی کا شکر بجا لائے اور اپنے اتحاد سے افواج کے خلاف پروپیگنڈہ میں نہ آئے، ریاست پہلے اور سیاست بعد میں کا بیانیہ ہی قوم کی جیت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق گورنر سندھ و ایم پی پی کے روح رواں ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کے زریعے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا تھا لیکن عالمی دنیا بھی بھارتی سازش میں نہیں آئی، پاکستان نے بھارتی فالس آپریشن کا عالمی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کرکے بھارت کو بے نقاب کردیا، یہ باور کرنا چاہتا ہوں کہ بھارت نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ پاکستان اندر سے بہت کمزور ہے اس کو شکست دینا بہت آسان ہے لیکن جب انہوں نے پاکستان کے خلاف کاروائی کی تو پاکستان نے جس طرح جواب دیا وہ پیشہ وارانہ مہارت کا مکمل نمونہ تھا، پاکستان نے خود کو گلوبل پوزیشن میں مستحکم ثابت کردیا، نیویارک ٹائمز اور دنیا بھر کے جرائد اور میڈیا، تھنک ٹینک نے پاکستان کی ہی تعریف کی ہے۔ انہوں نے یہ بات ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
مختلف سوالات کے جوابات میں انکا کہنا تھا کہ ہمارے آرمی چیف کی دنیا تعریف کر رہی ہے، ہماری افواج پیشہ وارانہ مہارت، تکنیکی مضبوطی اور ہر لحاظ سے بہتر ہیں، انہوں نے یہ ثابت کیا، 10مئی کی صبح جس طرح ہماری افواج نے بھارتی حملے کا جواب دیا ب تمام جھوٹے دعوں کی قلعی کھل گئی، انہیں یہ بھی پتہ چل گیا کہ پاکستانی عوام فوج کے شانہ بشانہ ہیں اور انکی تمام تر خوش فہمیاں افواج پاکستان اور عوام نے دور کردیں، بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب ملنے کے بعد بین الاقومی کمیونٹی نے ثالثی کا کردار ادا کرکے سیز فائر کرایا، پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے حال ہی میں بلوچستان میں جعفر ایکسپریس کا واقعہ ہوا، اس میں بھارت ملوث تھا لیکن پاکستان نے غیر ذمہ دارانہ رویہ کا مظاہرہ نہیں کیا تحقیقات کیں اور بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت کے بعد بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی، بلوچستان، کے پی کے اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی میں ملوث بھارتی ایجنٹ پکڑے گئے، اس میں کوئی شک نہیں کہ انڈیا کراس بارڈر دہشت گردی میں ملوث ہے، جعفر ایکسپریس واقعہ کے شواہد بین الاقومی سطح پر شیئر کئے گئے، پاکستان نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا جبکہ بھارت نے پہلگام واقعہ کے چند منٹ بعد پاکستان کو مورد الزام ٹہرا دیا، سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا، سرحدوں پر اشتعال انگیزی شروع کردی اور حملہ کردیا، خود ہی بغیر کسی تحقیقات کے پاکستان کے ساتھ جارحیت شروع کردی، اس میں کوئی شک نہیں بھارت نے منصوبہ بندی کے تحت یہ واقعہ کیا، پاکستان نے ہر دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت اور اعلی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کی بات کی ہے، پاکستان نے ہمیشہ سفارتی زرائع سے اپنی بات پہنچائی۔
آخر میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب دنیا کو سمجھ آگئی ہے کہ پاکستان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بات چیت ہی مسئلہ کا حل ہے کشمیر کا مسئلہ پاکستان نے ہیمشہ اٹھایا اور اس کا بھی حل بات چیت سے نکالا جائے، تھرڈ پارٹی والا آپشن بھی کھلا رکھا ہے، پاکستان کا موقف واضع ہے اور اس نے ہمیشہ ثبوتوں کے ساتھ بات کی ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار جوان اور سولین کی شہادتکی قربانی دی ہے، بھارت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے، بھارت نے آفینس کیا پاکستان نے ڈیفنس کیا، بھارت کے فالس پروپیگنڈے کے دنیا کے سامنے پرچخے اڑ چکے ہیں، قوم اللہ تعالی کا شکر بجا لائے اور اپنے اتحاد سے افواج کے خلاف پروپیگنڈہ میں نہ آئے، ریاست پہلے اور سیاست بعد میں کا بیانیہ ہی قوم کی جیت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دنیا کے سامنے کہ بھارت نے پاکستان نے انہوں نے کے خلاف
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔