Express News:
2026-07-24@03:37:05 GMT

میڈیا ’’کامیڈیا‘‘ اینکر ’’بھیئنکر‘‘

اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT

جب ہم نے فیس بک پر پوسٹ لگائی ’’ہر ملک میں میڈیا ہے، بھارت میں کامیڈیا ہے‘‘ تو احباب نے سمجھا کہ ہم بھارتی میڈیا کا مذاق اڑا رہے ہیں، حالاں کہ ہم بس یہ کہنا چاہتے تھے کہ بھارت میں خبری چینلز کی دنیا بولی وڈ کی طرح ایک تفریحی صنعت بن چکی ہے، جہاں کہانی، ایکشن، ایڈوینچر سمیت وہ سب کچھ ہوتا ہے جو ایک فلم کے لیے درکار ہے۔

 ان عناصر میں رومانس بھی شامل ہے مگر وہ صرف نریندر مودی کے لیے مخصوص ہے، اسی طرح اس میڈیا کی کامیڈی بس ہم پاکستانیوں کے لیے مختص ہے۔ دراصل ہمارے مسائل اور المیوں کا احساس کرتے ہوئے ہمسائے کے ٹی وی چینلوں نے ٹھانی کہ ’’روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے‘‘، اور میڈیا سے کامیڈیا ہوگیا، پھر اتنا ہنسایا کہ ان کا ہر ٹی وی اینکر جونی لیور بن گیا۔ آپ ہی بتائیے اس دور میں کون پڑوسیوں کا اتنا خیال رکھتا ہے، ہمارے بزرگ جانتے تھے کہ دنیا میں بھارتیوں سے اچھا کوئی پڑوسی نہیں، اسی لیے تو انھوں نے فیصلہ کیا تھا کہ حضور! ہمیں ساتھ نہ رکھیے، پڑوسی بنالیں۔

جیسا کہ ہم نے بتایا کہ بھارتی میڈیا نرا فلمی ہے سو اس نے فلموں کی تقلید میں دوہرا کردار یا ڈبل رول نبھایا اور کیا خوب نبھایا، یہ ہمارے لیے کامیڈیا تھا تو بھارتیوں کے لیے ویکی پیڈیا۔ اس کا تیسرا کردار ’’مودیا‘‘ دونوں کرداروں میں جھلکتا رہا۔ ادھر یہ کامیڈیا بنا ہمیں ہنسا رہا تھا تو ادھر ویکی پیڈیا بنا بتارہا تھا کہ لاہور میں بندرگاہ ہے، جس پر دیش کی سینا نے ہلہ بول دیا ہے۔

یہ انکشاف ہمیں دنگ کرگیا ہم سوچنے لگے کہ لاہور میں سمندر ہے اور لاہوریوں نے کبھی بتایا بھی نہیں! سوچا چھپا کر رکھا ہوگا کہ کراچی والا ختم ہوجائے پھر استعمال میں لائیں گے۔ ہم نے ایک لاہوری دوست کو فون کرکے استفسار کیا، پہلے حیران ہوئے پھر بولے،’’ہوسکتا ہے میاں نواز شریف نے چُپکے سے ’بنوا دیا‘ ہو، وہ بڑے بڑے منصوبے بنانے کے عادی ہیں۔‘‘ لاہور کے ایک اور دوست سے پوچھا، پہلے حیران ہوکر بولے،’’سمندڑ۔۔۔اِدھڑ۔۔۔لہوڑ میں؟‘‘ چند لمحوں بعد کچھ سوچ کر گویا ہوئے،’’ہاں ہاں یاد آیا، خان نے بنوایا تھا، پھر جب ان کی حکومت کے خلاف امریکی سازش ہوئی تو انھوں نے ڈھکوادیا تھا تاکہ سمندر میں گندی مچھلیاں نہ آجائیں۔‘‘

ابھی ہم انھیں سوچوں اور لاہوری سمندر میں ڈوبے ہوئے تھے کہ ایک بھارتی ٹی وی چینل سے خبر ملی کہ بھارتی سینا نے آدھا کراچی تباہ کردیا ہے۔ اب ہماری سمجھ میں آیا کہ لاہور میں سمندر کیسے ’’پھوٹ پڑا‘‘

ہم نے خیال آرائی کی اور خود کو بتایا۔۔۔ ہوا یہ کہ آدھا کراچی تباہ ہوتے دیکھ کر سمندر بے چارہ سہم گیا، کلفٹن کے ساحل پر مٹرگشت کرتے ایک اونٹ نے گردن اونچی کرکے شہر کی حالت دیکھی، پھر سمندر سے کہا،’’حالات ٹھیک نہیں ہیں، میں تو کؤں میاں! نکل لو‘‘ سمندر نے پنجاب میں ترقی کی نوید سناتے اخباری ضمیمے پڑھ رکھے تھے تو سوچ لیا ’’میں پنجاب جاؤں گا‘‘ بس اچھل کر نکلا اور دوڑتا بھاگتا لاہور جاپہنچا۔ پہنچتے ہی لاہوریوں سے بولا،’’بھیا! ہم سمندر ہیں، کرانچی سے آئے ہیں، اور خدارا کسی غلط فہمی کا شکار مت ہوجائیے گا، ہم کرانچی والے ضرور ہیں مگر’’تیرا میرا ساتھی ہے لہراتا سمندر‘ کے نغمے والے سمندر ہیں۔

 ’’مظلوموں کا ساتھی ہے‘‘ کے سات سمندر پار والے صاحب سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔‘‘ لاہوریوں نے ’’او کوئی نئیں‘‘ کہہ کر اسے تسلی دی، پھجے کے پائے کھلائے، لسی پلائی، پھر ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے،’’او راوی اے، جا اودے نال لما پے جا۔‘‘ اور سمندر ابھی ’لما پیا‘ ہی تھا کہ مریم نواز نے شہباز اسپیڈ سے کام لیتے ہوئے اس کے کنارے بندرگاہ کے سارے لوازمات مہیا کردیے۔ ابھی بندرگاہ تیار ہوئی تھی کہ بھارتیوں کو خبر مل گئی، بس پھر کیا تھا جیسا آپ بولی وڈ کی فلموں میں دیکھتے ہیں، اور بس انھیں میں دیکھتے ہیں اور انھیں میں دیکھتے رہیں گے۔۔۔۔بھارتی سینک ٹہلتے ہوئے آئے، لاہور پر ’’کبجا‘‘ کیا اور بندرگاہ تباہ کرکے بھڑکتی آگ کی طرف پیٹھ کیے سینہ تانے دھیرے دھیرے بیک گراؤنڈ میوزک سے قدم ملاتے چل دیے۔

اس خیال آرائی نے لاہور میں بندرگاہ ہونے کا مسئلہ تو حل کردیا، لیکن ہمیں لاہور اور کراچی پر ’’کبجے‘‘ اور شہرقائد کی تباہی کی فکر ہوئی۔ جستجو کی تو پتا چلا کراچی میں زندگی رواں دواں ہے اور لاہور بھی پوری شان سے دھڑک رہا ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ بھارتی اینکروں کی تنخواہیں اتنی کم کیوں ہیں؟ آپ موضوع اور سوال میں ربط ڈھونڈ رہے ہوں گے، ابھی جوڑے دیتے ہیں۔ بھئی کم پیسوں میں تو بے چارے سستی ہی پی سکتے ہیں ناں! یہ بھی ممکن ہے کہ مالی مسئلہ نہ ہو دیش بھگتی کی وجہ سے سستی دیسی پیتے ہوں، جس کا خمیازہ دیش نے بھگتا۔۔۔ گویا سبق ملا کہ کبھی کبھی دیش بھگتی ’’دیش بُھگتا‘‘ بن جایا کرتی ہے۔

ایک اور امکان بھی ہے۔ ہمیں لگتا ہے بھارتی صحافت تجزیے، معروضیت اور خبررسانی کی حدود سے نکل کر فکشن اور شاعری کی سرحدوں میں داخل ہوئی اور اب ان اصناف ادب کو بھی پیچھے چھوڑ کر ایک نئی صنف بن چکی ہے، ’’صنف نارُک‘‘ یعنی کسی اصول، قدر اور ضابطے پر نہ رکنے والی۔

اس صنف ہی کا کمال ہے کہ بھارتی ٹی وی چینلوں پر ہمارے سامنے اینکر نہیں ’’بھیئنکر‘‘ ہوتے ہیں، ان کی گفتگو سے الفاظ اور حرکات وسکنات تک سب اتنا بھیانک ہوتا ہے کہ اس سب کے ساتھ اچانک سامنے آجائیں تو زمانے کی سانس رک جائے۔ بات یہ ہے کہ اس صنف میں صحافت کے ذریعے عوام کی تربیت پر کچھ زیادہ ہی زور دیا جاتا ہے، اتنا کہ جن کی اچھی تربیت ہوئی ہو وہ بھارتی صحافت سے دور ہی رہتے ہیں۔ دراصل بھارتی صحافت نے یہ سبق برصغیر کے ان والدین سے سیکھا ہے جو ڈر کو اولاد کی تربیت کے لیے لازمی سمجھے ہیں۔ بھارتی برقی میڈیا بھی اپنے ناظرین کو اولاد سمجھ کر اسے ڈرانا اپنا فرض سمجھتا ہے، یہ الگ بات کہ اس چکر میں وہ اولاد وہ اپنا بیانیہ اس قدر لاد دیتا ہے کہ اولاد کی کمر ایسی جھکتی ہے کہ وہ سامنے کا منظر بھی نہیں دیکھ پاتی۔

’’صنف نا رک‘‘ کے فن کار یہیں نہیں رکتے، بلکہ وہ کہیں پر نہیں رکتے، وہ اپنے فن اور تخیل کو کام میں لاتے ہوئے خبر جنم دیتے ہیں۔ یہ جو ان کے چہروں پر ہیجان، باتوں میں خلجان اور لفظوں میں سونامی طوفان ہوتا ہے، وہ اسی شوق ولادت کا بھگتان ہوتا ہے۔ حال ہی میں دردِولادت سہہ کر جو پیداوار حاصل ہوئی وہ ’’کراچی تباہ ہوگیا، لاہور پر قبضہ ہوگیا، اسلام آباد فتح ہوگیا، پاکستانی سپاہ سالار کی برطرفی‘‘ کے عنوانات سے سامنے آئی، بھارتی ناظرین زچہ، بچہ اور مودی چچا پر صدقے واری ہوگئے، لیکن اگلے دن پتا چلا بچے نہیں پتھری تھی، جو عقل پر پڑے پتھروں سے وجود میں آئی، پیٹ میں سمائی پھر منہ کے راستے ہوئی اس کی منہ دکھائی، ایسی کہ بھارتی کامیڈیا اور صنف نا رک کے فن کار منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہ بھارتی لاہور میں ہوتا ہے کے لیے تھا کہ

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت