ایشیا کپ 2025: پاک بھارت ٹاکرا 7 ستمبر کو دبئی میں شیڈول: بھارتی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے زیرِ اہتمام رواں سال ہونے والے ایشیا کپ 2025 کے ابتدائی شیڈول کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جس کے مطابق ایونٹ کا آغاز 4 یا 5 ستمبر سے متوقع ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایشیا کپ کے انعقاد سے متعلق حتمی فیصلہ اسی ہفتے کیا جائے گا، جب کہ ٹورنامنٹ کا میلہ اس بار ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بھارت کی میزبانی میں سجے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بننے والا پاک-بھارت مقابلہ 7 ستمبر کو دبئی میں ہونے کا امکان ہے، دونوں روایتی حریف ٹیمیں ایونٹ میں کم از کم دو بار آمنے سامنے آئیں گی، اگر دونوں ٹیمیں فائنل تک رسائی حاصل کرتی ہیں تو ممکنہ طور پر تیسری بار بھی ٹاکرا ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ایشیا کپ 2025 کی باضابطہ میزبانی بھارت کو سونپی گئی ہے، تاہم پاکستان کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ہائبرڈ ماڈل پر عمل کیا جائے گا۔ اس ماڈل کے تحت چند میچز متحدہ عرب امارات میں کھیلے جائیں گے، جب کہ بھارت میں باقی ایونٹ کا انعقاد ہوگا۔
ابتدائی طور پر سری لنکا اور یو اے ای کو مشترکہ میزبانی کے ممکنہ امیدواروں کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، مگر موجودہ علاقائی و سفارتی صورتحال کے پیش نظر دبئی کو ترجیح دی گئی ہے۔
ایشیا کپ میں بھارت، پاکستان، سری لنکا، بنگلادیش، افغانستان اور ایک کوالیفائر ٹیم حصہ لے گی، جس کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، یہ ایونٹ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کی تیاریوں کے تناظر میں بھی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔