پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کا رابطہ، کشیدگی میں کمی اور امن کی جانب پیش رفت پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کا رابطہ، کشیدگی میں کمی اور امن کی جانب پیش رفت پر اتفاق WhatsAppFacebookTwitter 0 20 May, 2025 سب نیوز
پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان رابطے کے دوران کشیدگی میں کمی اور امن کی جانب پیش رفت پر عمومی اتفاق رائے کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق علاقائی اور بین الاقوامی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کم کرنے پر عمومی اتفاق رائے سامنے آگیا۔
دونوں ممالک نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ افواج کو رفتہ رفتہ امن کے دوران تعینات پوزیشنوں پر واپس لایا جائے گا۔
ذرائع نے کہا کہ سیز فائر اور کشیدگی میں کمی کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم دونوں فریقین کے درمیان ایک “غیر رسمی مفاہمت” موجود ہے، جس کا مقصد موجودہ محاذ آرائی کو کم کر کے خطے میں امن و استحکام کی بحالی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنور مقدم کیس: مجرم ظاہر جعفر کی قتل کے الزام میں سزائے موت برقرار، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا نور مقدم کیس: مجرم ظاہر جعفر کی قتل کے الزام میں سزائے موت برقرار، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا پاکستان میں عیدالاضحیٰ کب ہوگی؟ ماہرین فلکیات نے متوقع تاریخ بتادی گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کا بھارتی الزام مسترد کرتے ہیں: دفتر خارجہ بھارت میں پاکستان کیلئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار یوٹیوبر کا تعلق بی جے پی سے نکلا جعفر ایکسپریس حملے کی تشہیر سے بھارت کا دہشتگردوں سے گٹھ جوڑ بے نقاب وردی کسی بھی رنگ کی ہو ہماری شہادت کی آرزو زندگی سے زیادہ ہے، ترجمان پاک فوجCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کشیدگی میں کمی
پڑھیں:
پاکستان اور بحرین کا تجارت 1 ارب ڈالر تک بڑھانے اور ویزا شرائط میں نرمی پر اتفاق
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
منامہ: وزیراعظم پاکستان نے بحرین کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ سے منامہ میں ملاقات کی، جس میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی، اقتصادی، دفاعی اور عوامی تعلقات کو مضبوط بنانے پر بات چیت کی گئی۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم پاکستان کو قصر القضیبیہ پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جس پر وزیراعظم نے پرتپاک استقبال پر شہزادہ سلمان کا شکریہ ادا کیا اور بحرین کی قیادت کو دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں ان کے کردار پر سراہا۔
اقتصادی تعاون پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ دوطرفہ تجارت 550 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ ہے اور اسے اگلے تین سال میں ایک ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا، اس ہدف کے حصول کے لیے پاکستان جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ اور ویزا شرائط میں نرمی جیسے اقدامات استعمال کیے جائیں گے۔
وزیراعظم نے بحرینی سرمایہ کاروں کو فوڈ سیکیورٹی، آئی ٹی، تعمیرات، کان کنی، صحت، قابل تجدید توانائی اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی، انہوں نے کراچی و گوادر اور خلیفہ بن سلمان پورٹ کے درمیان بندرگاہ سے بندرگاہ تک رابطے بڑھانے کی تجویز بھی دی۔
وزیراعظم نے 150,000 سے زائد پاکستانی کمیونٹی کے لیے بحرین کی حمایت کو سراہا اور ہنر مند افرادی قوت فراہم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم، تکنیکی تربیت اور ڈیجیٹل گورننس میں تعاون کی توسیع کا خیرمقدم کیا اور اسلام آباد میں کنگ حمد یونیورسٹی کی تعمیر، اور پاکستانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے پر بحرین کا شکریہ ادا کیا۔
ملاقات کے دوران دفاعی اور سیکیورٹی تعاون پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جس میں تربیت، سائبر سیکیورٹی، دفاعی پیداوار اور معلومات کے تبادلے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے غزہ کی موجودہ صورتحال پر بھی بات کی اور امن و استحکام کے قیام کی اہمیت پر زور دیا۔
ملاقات کا اختتام اعتماد کے ساتھ ہوا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک، اقتصادی، سیکورٹی اور عوامی تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے گا اور بات چیت کے ٹھوس نتائج سامنے آئیں گے۔