پاک بھارت فوجی کشیدگی کے بعد اب بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف ایک مذموم پروپیگنڈا مہم جاری ہے جس میں کبھی پاکستان کو جوہری ہتھیاروں کے لیے غیر محفوظ ملک، کہیں جنگی جارحیت کا مرتکب اور کہیں دہشتگرد ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ 7 مئی کو شروع ہونے والی پاک بھارت فوجی کشیدگی اور اُس سے قبل 22 اپریل کے بعد کی صورتحال میں پاکستان کو بہت ساری سفارتی کامیابیاں ملی ہیں۔ بھارت کے اپنے اندر سے یہ آوازیں اُٹھائی جا رہی ہیں کہ پاکستان کے مؤقف کو دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے بھارت کو سفارتی تنہائی کا شکار کردیا۔

یہ بھی پڑھیں پہلگام واقعے پر پاکستان کی سفارتی کامیابی اور بھارت کی سفارتی ہزیمت، وجوہات کیا ہیں؟

بھارتی سیاسی جماعتیں اور ذرائع ابلاغ پوری طرح سے اس کوشش میں نظر آتے ہیں کہ پاکستان کو نہ صرف ایک دہشتگرد ریاست بلکہ جنگی جارحیت کے مرتکب ملک کے طور پر دکھایا جائے اور اس حوالے سے طرح طرح کے بے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں۔

عملی جنگ کے بعد اب دونوں ملکوں میں سفارتی لڑائی کا آغاز بھی ہوگیا ہے، گزشتہ روز بھارت نے اپنی سیاسی جماعتوں سے 51 افراد کو منتخب کرکے دنیا کے بڑے ملکوں میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں جا کر وہ بھارتی مؤقف سے دنیا کو آگاہ کریں گے۔

دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو ایک اعلیٰ سفارتی وفد کی قیادت کے لیے نامزد کیا۔ 8 افراد پر مشتمل یہ خصوصی سفارتی وفد لندن، پیرس، برسلز سمیت دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں جاکر بھارت کے خلاف پاکستانی مؤقف کی ترجمانی کرےگا۔

وفد میں پاکستان پیپلز پارٹی سے بلاول بھٹو کے علاوہ سابق وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر اور امریکا میں پاکستان کی سابق سفیر شیری رحمان شامل ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز سے انجینیئر خرم دستگیر اور مصدق ملک جبکہ ایم کیو ایم سے فیصل سبزواری کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سابق سیکریٹری خارجہ اور سابق نگراں وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی سمیت سابق سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ شامل ہیں۔

مذکورہ وفد عالمی دارالحکومتوں میں وہاں کے سفارتکاروں، تھنک ٹینکس اور پالیسی سازوں کے ساتھ گفتگو کرکے پاکستان کے مؤقف کی ترجمانی کرےگا۔

بلاول بھٹو

بلاول بھٹو گزشتہ پی ڈی ایم حکومت میں ایک انتہائی فعال وزیر خارجہ رہ چکے ہیں اور سفارتکاری میں تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ وقتاً فوقتاً وہ عالمی نوعیت کے مختلف فورمز پر پاکستان کے مؤقف کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں اور اُن کے طرزِ بیان اور اسلوب کو دنیا میں پذیرائی بھی ملتی ہے۔

حنا ربانی کھر

حنا ربانی کھر پاکستان پیپلز پارٹی کی 2008 سے 2013 تک وفاقی حکومت میں وزیر مملکت برائے خارجہ اُمور تھیں اور بین الاقوامی تعلقات پر بات چیت کے لیے ایک خاص سمجھ بوجھ رکھتی ہیں۔ وقتاً فوقتاً وہ بین الاقوامی میڈیا پر پاکستان کے مؤقف کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہیں۔

شیری رحمان

شیری رحمان پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر ہیں اور امریکا میں پاکستان کی سفیر رہ چکی ہیں، شیری رحمان صحافت، سیاست اور سفارت کاری کا شاندار تجربہ رکھتی ہیں۔

مصدق ملک

مصدق ملک وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی اور ماحولیاتی تبدیلی ہیں، جو تعلیم یافتہ شخصیت ہیں۔ سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز نے انہیں اپنا استاد قرار دیتے ہوئے کہاکہ مصدق ملک نے انہیں ’صنعتی زوننگ‘ کے بارے میں سکھایا، جو سعودی عرب میں ایک کامیاب ماڈل ثابت ہوا۔

مصدق ملک پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھتے ہیں، وہ اس وقت وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی اور ماحولیاتی تبدیلی کے امور سنبھال رہے ہیں، حالانکہ وہ ماضی میں وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ سینیٹ آف پاکستان کے رکن ہیں اور پاکستانی سیاست میں ایک نمایاں شخصیت ہیں، جو اکثر میڈیا پر اپنی سیاسی جماعت کے مؤقف کی ترجمانی کرتے ہیں۔

خرم دستگیر

خرم دستگیر پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے دوسرے رکن جو اس سفارتی مشن کا حصہ ہوں گے، خرم دستگیر ایک بہت پڑھی لکھی شخصیت ہیں، وہ سابق وفاقی وزیر تجارت اور وزیر توانائی رہ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں پاک بھارت تصادم: 2019 اور 2025 کے فوجی اور سفارتی ردعمل میں کیا فرق ہے؟

فیصل سبزواری

ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فیصل سبزواری ایک انتہائی متحرک سیاستدان ہیں، اس وقت وہ وفاقی وزیر بھی ہیں اور پاکستان کی ترجمانی کرنے والے وفد میں اُن کا نام بھی شامل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارتی پروپیگنڈا پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ پاکستانی وفد پروپیگنڈے کا توڑ سفارتی مہم وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارتی پروپیگنڈا پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ پاکستانی وفد پروپیگنڈے کا توڑ سفارتی مہم وی نیوز پاکستان پیپلز پارٹی مؤقف کی ترجمانی پاکستان کے مؤقف میں پاکستان پاکستان کی وفاقی وزیر بلاول بھٹو خرم دستگیر پاک بھارت مصدق ملک ہیں اور کے لیے

پڑھیں:

پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ

میانمار میں پاکستان کے سفیر طارق کریم(Tariq kareem) نے اپنی رہائش گاہ پر پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔

عشائیے میں یونین آف میانمار فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (UMFCCI) کے صدر، نائب صدر، میانمار چیمبر آف کامرس فار فارماسیوٹیکل اینڈ میڈیکل ڈیوائسز (MCCPMD) کے چیئرمین، دیگر معروف کاروباری شخصیات اور فارمیٹیک پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے وفد نے شرکت کی۔

اس موقع پر سفیر طارق کریم اور معزز مہمانوں کے درمیان خوشگوار اور بامقصد تبادلہ خیال ہوا، جس میں پاکستان اور میانمار کے درمیان تجارت و اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے، بالخصوص ادویہ سازی، ٹیکسٹائل اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے، جبکہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط (B2B Linkages) کو مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو کی گئی

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار