پریش راول کی چھٹی، ’ہیرا پھیری 3‘ میں بابو راؤ کا کردار کون سا اداکار ادا کرے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
بالی ووڈ کی معروف کامیڈی فرنچائز ‘ہیرا پھیری 3‘ کی شوٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی فلم مشکلات کا شکار ہو گئی ہے کیونکہ اداکار پریش راول جو بابو بھیا کے کردار میں نظر آتے تھے انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس فلم سے علیحدہ ہو رہے ہیں تو مداح مایوس ہو گئے۔
اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر یہ چہ مگوئیاں ہونے لگیں کہ بابو بھیا کا کردار کون سا اداکار ادا کرے گا۔ ایسے میں کئی خبریں سامنے آئیں کہ اداکار پنکج ترپاٹھی بابو راؤ کے کردار میں نظر آئیں گے۔
مگر حال ہی میں پنکج ترپاٹھی نے ان افواہوں کو مسترد کر دیا اور پریش راول کے لیے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا ’میں نے پڑھا اور سنا کہ شائقین مجھے بابو بھیا کا کردار کرتے دیکھنا چاہتے ہیں، مگر میں نہیں سمجھتا کہ میں یہ کر سکتا ہوں۔ پریش راول ایک غیر معمولی اداکار ہیں اور میں ان کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ میں ان کا بے حد احترام کرتا ہوں، اور مجھے نہیں لگتا کہ میں اس کردار کے لیے صحیح شخص ہوں‘۔
یہ بھی پڑھیں: فلم ہیرا پھیری میں بابو راؤ کا کردار ’گلے کا پھندا‘ ہے، پریش راول نے ایسا کیوں کہا؟
واضح رہے کہ فلم ہیرا پھیری 3 کی شوٹنگ سے پہلے ہی کئی مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ شائقین بہت خوش تھے کہ اکشے کمار، سنیل شیٹی اور پریش راول ایک بار پھر اپنی مشہور ٹرائیو کی صورت میں واپس آ رہے ہیں۔ لیکن اچانک پریش راول کے فلم چھوڑنے کی خبر نے سب کو حیران کر دیا۔
اب اکشے کمار کی پروڈکشن کمپنی نے پریش راول پر 25 کروڑ روپے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ پریش نے 30 جنوری کو سوشل میڈیا پر فلم کا حصہ بننے کا اعلان کیا تھا اور 27 مارچ کو باقاعدہ معاہدہ پر دستخط کیے تھے۔ اس کے بعد کمپنی نے فلم کی تیاری(ٹیزر شوٹ اور ابتدائی سینز) پر بہت خرچ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہیرا پھیری 3 میں سنجے دت کون سا انوکھا کردار ادا کریں گے؟
کمپنی کا کہنا ہے کہ 3 اپریل کو فلم کا ٹیزر شوٹ ہوا، جس میں پریش راول کی تین منٹ سے زیادہ کی فوٹیج بھی ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران انہوں نے کسی قسم کی تخلیقی شکایت نہیں کی۔ لیکن اب اچانک فلم چھوڑنے کی وجہ ’تخلیقی اختلافات‘ بتائی جا رہی ہے، جس سے کمپنی کو بڑا مالی نقصان ہوا ہے۔
کمپنی کے مطابق اگر سات دن کے اندر اس مطالبے پر عمل نہ کیا گیا، تو کمپنی قانونی کارروائی کرے گی، جس میں سول اور کریمنل ایکشن دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اکشے کمار بابو بھیا پریش راول ہیرا پھیری 3.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اکشے کمار بابو بھیا پریش راول ہیرا پھیری 3 ہیرا پھیری 3 پریش راول بابو بھیا کا کردار
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔