معرکہ حق میں مودی کا دھڑن تختہ ہوا اور پی ٹی آئی کا بھی نقصان ہوا ہے: رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ مودی بھی زور لگائے گا اور پی ٹی آئی بھی لیکن کچھ نہیں کرسکیں گے ، معرکہ حق میں مودی کا دھڑن تختہ ہوا اور پی ٹی آئی کا بھی نقصان ہوا ہے، معرکہ حق دراصل حق و باطل کی لڑائی تھی، معرکہ حق کا نتیجہ خدانخواستہ کچھ اور ہوتا تو پی ٹی آئی آسمان سر پر اٹھا لیتی۔ ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی والے بڑی باتیں کررہے ہیں لیکن کچھ نہیں کرسکیں گے، بات کرنے سے کسی کو نہیں روکا جاسکتا، تحریک چلانا پی ٹی آئی والوں کا کام نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان کی کامیابی ہوئی اسی لیے پوری قوم فخر کررہی ہے، نقصان کی بھرپائی کرنے کیلئے پی ٹی آئی تحریک چلانے کی کوشش کریگی۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ مودی بھی بھڑکیں لگارہا ہے یہ کچھ نہیں کرسکیں گے، پی ٹی آئی اب کچھ بھی نہیں کرسکے گی یہ ریکارڈ پررکھ لیں۔انہوں نے کہا پی ٹی آئی کا مقصد صرف بانی پی ٹی آئی کو جیل سے باہر لانا ہے تو یہ کوئی نظریہ نہیں، بانی پی ٹی آئی کو صرف جیل سے باہر لانا ہے تو پی ٹی آئی کوئی سیاسی جماعت نہیں۔انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے تو سیاسی جماعتوں کیساتھ بیٹھ کر بات کرنی چاہیے، تحریک ا نصاف کو چارٹر آف ڈیموکریسی کرنی چاہیے، ملکی مسائل پر بات کرنی چاہیے۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی نے کہا کہ معرکہ حق
پڑھیں:
خالد خورشید حکومت گرانے سے متعلق گورنر کے بیان پر تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آ گیا
علی تاج نے کہا کہ گورنر کے اعتراف کے بعد وہ تمام سیاسی، انتظامی اور پسِ پردہ کردار بالخصوص امجد ایڈووکیٹ اورُ حفیظ الرحمن جو اس افسوسناک فیصلے، اس غیرقانونی مداخلت اور عوامی مینڈیٹ کی توہین میں اعلانیہ و غیر اعلانیہ شریک رہے، انہیں خالد خورشید سے سرِعام معافی مانگنی چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک انصاف کے رہنما و سابق ترجمان وزیر اعلیٰ علی تاج نے ایک بیان میں خالد خورشید حکومت کے گرائے جانے کے بارے میں گورنر سید مہدی شاہ کے بیان پر اہم ردعمل میں کہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کی حکومت گرانے سے متعلق گورنر مہدی شاہ کے حالیہ بیان نے اس پورے عمل کی حقیقت بے نقاب کر دی ہے۔ اس اعتراف کے بعد وہ تمام سیاسی، انتظامی اور پسِ پردہ کردار بالخصوص امجد ایڈووکیٹ اورُ حفیظ الرحمن جو اس افسوسناک فیصلے، اس غیرقانونی مداخلت اور عوامی مینڈیٹ کی توہین میں اعلانیہ و غیر اعلانیہ شریک رہے، انہیں خالد خورشید سے سرِعام معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ محض سیاسی زیادتی نہیں تھا بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کے مینڈیٹ، جمہوری اقدار اور آئینی حق پر براہِ راست حملہ تھا۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ اس ظلمِ عظیم کا ازالہ کیسے ہوگا؟ ازالہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ تمام غیرضروری قانونی رکاوٹیں ہٹا کر شفاف، غیرجانبدار اور آزادانہ انتخابات کرائے جائیں، تاکہ عوام کو دوبارہ یہ حق مل سکے کہ وہ ووٹ کے ذریعے اپنا مینڈیٹ پی ٹی آئی اور خالد خورشید کو واپس سونپ سکیں۔