پاکستان پوسٹ میں اشتہار سے زائد بھرتیاں، پبلک اکاونٹس کمیٹی نے معاملہ نیب کو بھجوا دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 29 May, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)پبلک اکاونٹس کمیٹی نے پاکستان پوسٹ میں اشتہار سے زائد بھرتیوں اور چار ارب روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب)کو بھجوا دیا ہے۔ کمیٹی نے وزارت مواصلات کی جانب سے فنانس ڈویژن کی منظوری کے بغیر اکاونٹس کھولنے کے معاملے پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایک ہفتے میں اس کا حل پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
جنید اکبر خان کی زیر صدارت پی اے سی کے اجلاس میں مواصلات ڈویژن کی 2023-24 کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران چیئرمین این ایچ اے کی عدم شرکت پر کمیٹی نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ سیکرٹری مواصلات نے وضاحت دی کہ چیئرمین این ایچ اے ایک اہم اجلاس کے باعث شریک نہ ہو سکے۔اجلاس میں پاکستان پوسٹ آفس کی جانب سے 314 افراد کی غیر قانونی بھرتی کا انکشاف ہوا۔ سیکرٹری مواصلات نے بتایا کہ ان بھرتیوں پر تادیبی کارروائی شروع کی گئی تھی، تاہم متاثرہ افراد نے عدالتوں سے سٹے آرڈر حاصل کر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اشتہار سے زائد بھرتی کیے گئے افراد کو برطرف کیا جا چکا ہے۔
چیئرمین پی اے سی نے انکشاف کیا کہ ان بھرتیوں میں لوگوں سے پیسے لے کر میرٹ کے خلاف تقرریاں کی گئیں۔ کمیٹی نے اس سنگین معاملے پر نہ صرف نیب کو خط بھیجنے کا فیصلہ کیا بلکہ آئندہ اجلاس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی طلب کرنے کا اعلان کیا۔مزید برآں، پاکستان پوسٹ کی جانب سے یوٹیلیٹی بلز، منی آرڈرز اور پوسٹل ریونیو کی مد میں جمع شدہ 4 ارب روپے کی رقم کے غیر قانونی استعمال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس پر چیئرمین پی اے سی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی غفلت سے عوام ڈیفالٹر بن گئے ہیں۔ سیکرٹری مواصلات کا کہنا تھا کہ نیشنل بینک کی جانب سے مکمل ڈیٹا فراہم نہیں کیا گیا، تاہم انکوائریاں مکمل کر کے ذمہ داران کا تعین کیا جا چکا ہے۔ کمیٹی نے نیشنل بینک حکام کو آئندہ اجلاس میں طلب کرتے ہوئے آڈٹ اعتراض کو موخر کر دیا۔
اجلاس میں زیر التوا آڈٹ اعتراضات نمٹانے کے لیے معین پیرزادہ کی سربراہی میں ایک اور ذیلی کمیٹی قائم کر دی گئی، جس کے بعد پی اے سی کی ذیلی کمیٹیوں کی تعداد 5 ہو گئی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی 2کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 5دہشتگرد ہلاک بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی 2کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 5دہشتگرد ہلاک ایکٹ الائنس پاکستان کا تمباکو ٹیکس پالیسی میں بیرونی مداخلت پر اظہار تشویش ڈی جی ایکسائز عرفان نواز میمن کی غیر نمونہ نمبر پلیٹس کے خلاف سخت کریک ڈاون کی ہدایت شہر اقتدار میں ملاوٹ مافیا کیخلاف بڑا کریک ڈائون، 7فوڈ پوائنٹس سیل، 10کو 1 لاکھ 24 ہزار کے جرمانے کراچی کے ساحلی مسائل پر حکومت سندھ اور وفاق کا مشترکہ منصوبے شروع کرنے کا اعلان پاکستان، ہندوستان کی اجارہ داری کبھی قبول نہیں کریگا ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اشتہار سے زائد پاکستان پوسٹ کمیٹی نے نیب کو

پڑھیں:

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ