جماعت اسلامی کے صوبائی امیر کا کہنا تھا کہ اتحاد و اتفاق سے حکومت اور سیکورٹی فورسز پر امن کی بحالی کے لیے دباؤ ڈالیں گے، ہماری جدوجہد پُرامن ہے اور اس پُر امن جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔  اسلام ٹائمز۔ بنوں امن پاسون کمیٹی کے وفد نے ڈومیل میں احمد زئی قوم کے مشران اور عمائدین سے ملاقات کی۔ وفد میں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا جنوبی کے امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء باز محمد خان اور میریان قوم کے رہنماء ڈاکٹر پیر صاحب زمان شامل تھے۔ کمیٹی نے احمد زئی قوم کے مشران کے سامنے اپنا مدعا پیش کیا اور ان سے تعاون کی درخواست کی۔ احمد زئی قوم نے مشاورت کے بعد عید کے پہلے ہفتے میں جرگہ منعقد کرکے اپنے جواب سے آگاہ کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا جنوبی کے امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان نے احمد زئی قوم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بنوں امن پاسون صرف مغوی سرکاری استاد فرمان علی شاہ کی بازیابی کے لیے نہیں، بلکہ ضلع میں ہمہ گیر امن کے لیے ہے۔ ہم امن کے لیے کوشاں ہیں اور امن کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہم ناامید نہیں ہوئے، ان شاء اللہ بنوں، خیبر پختونخوا ور پورا ملک امن کا گہوارہ بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ بنوں میں امن کے لیے آواز اٹھانے کی پاداش میں سولہ پولیس اہلکاروں کو برطرف کیا گیا جن میں سے ایک گزشتہ دنوں بحالی کی آس میں دنیا سے رخصت ہوگیا۔ کچھ لوگوں کو شیڈول فور کی صورت میں عذاب کا سامنا ہے۔ سڑکیں بند ہیں، بنوں چھاؤنی میں عوامی دفاتر ہیں لیکن ان تک جانے کے لیے فوجی چیک پوسٹ پر سے گزرنا پڑتا ہے جہاں عوام کی تذلیل کی جاتی ہے۔ یہ صورتحال پچھلے بیس سالوں سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری اور کورکمانڈر سمیت دیگر اہم شخصیات نے ملاقاتوں میں تسلیاں دیں، وعدے وعید کیے لیکن مسئلہ جوں کا توں ہے۔ مسئلے کے حل کے لیے حکومت کی جانب سے سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بنوں کی تمام تحصیلوں کا دورہ کر رہے ہیں، عمائدین سے ملاقات کر رہے ہیں، انہیں متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اتحاد و اتفاق سے حکومت اور سیکورٹی فورسز پر امن کی بحالی کے لیے دباؤ ڈالیں گے، ہماری جدوجہد پُرامن ہے اور اس پُر امن جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے لیے کہا کہ امن کے

پڑھیں:

لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی

لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔

سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔

ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔

متعلقہ مضامین

  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم