بھارت کو سبق سکھا دیا، اب معاشی میدان میں بھی پاکستان کی تقدیر بدلیں گے، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے بھارت کو جو سبق سکھایا ہے وہ قیامت تک یاد رکھے گا، اب معاشی میدان میں بھی پاکستان کی تقدیر بدلیں گے جس کے لیے بڑے فیصلے کرنے ہوں گے۔
پشاور میں گرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ بھارت نے 6 اور 7 مئی کی شب حملہ کرکے پاکستان کے معصوم شہریوں کو شہید کیا، جس کا ہم نے منہ توڑ جواب دیا۔
یہ بھی پڑھیں آپریشن بنیان مرصوص کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قائدانہ کردار ادا کیا، وزیراعظم
انہوں نے کہاکہ بھارت نے اب اگر کوئی حماقت کی تو پھر منہ توڑ جواب ملے گا، مودی سرکار اپنی شکست کے زخم چاٹ رہی ہے اور ہمیں دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
شہباز شریف نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ تاریخ میں یہاں کے عوام کا نام سنہری حروف میں لکھا جائےگا۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی ہے اور بڑی قربانیاں دی ہیں۔ آج جرگے میں یہاں کے عمائدین اور مشران نے جو تجاویز دی ہیں ان پر مل کر فیصلے کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے تجویز دی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے معاملے کو دوبارہ دیکھنا چاہیے، ہم اگست میں این ایف سی کے حوالے سے پہلی میٹنگ کرنے جارہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہاکہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں پہلا نکتہ خیبرپختونخوا کو دہشتگردی کے خلاف وسائل کی فراہمی ہے، مختلف ادوار میں 700 ارب روپے خیبرپختونخوا کو دیے گئے، اور دہشتگردی کے خاتمے تک فنڈز کی فراہمی کا یہ سلسلہ جاری رہےگا۔
انہوں نے کہاکہ علی امین گنڈاپور سے کہا ہے کہ آپ کے مسائل کو دیکھنے کے لیے کمیٹی تشکیل دے رہا ہوں۔ ہم مل بیٹھ کر خیبرپختونخوا کے معاملات کو سنجیدگی سے دیکھیں گے اور ضرورت پڑی تو پارلیمنٹ میں لے کر جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں جلسوں کے لیے میدان بھرنے کے بجائے عوام کی معاشی حالت بہتر بنانے کی ضرورت ہے، وزیراعظم شہباز شریف
انہوں نے کہاکہ ہمیں پاکستان کی خوشحالی کے حوالے سے فیصلے کرنے ہیں، یہ فیصلہ بھی کرنا ہے کہ ہم کیسے پانی کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھا سکتے ہیں۔ پانی کے معاملے پر ہمیں فیصلہ کرنا ہے، جسے کے لیے چاروں صوبوں کو دعوت دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جرگہ خیبرپختونخوا شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جرگہ خیبرپختونخوا شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز انہوں نے کہاکہ شہباز شریف کے لیے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔