بلاول نے مسئلہ کشمیر کو دیرپا جنگ بندی کی کنجی قراردیدیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
عالمی برادری پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے بھارتی اقدامات کا نوٹس لے ،چیئرمین
جنوبی ایشیا کا امن مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے جڑا ہے،امریکی کانگریس اراکین سے گفتگو
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ عالمی برادری پانی کو بطور ہتھیار استعمال کئے جانے کے بھارتی اقدامات کا نوٹس لے،جنوبی ایشیا میں پائیدار امن یک طرفہ اقدامات اور جارحیت کی بجائے ڈائیلاگ، ڈپلومیسی اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے جڑا ہے۔پاکستان کے اعلی سطح کے پارلیمانی وفد نے امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں متعدد امریکی کانگریس اراکین سے ملاقاتیں کیں ،وفد کی جانب سے حالیہ پاک بھارت کشیدگی، بھارتی جارحیت ، امریکی قیادت کی کاوشوں سے عمل میں آنے والی جنگ بندی، بھارتی قیادت کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز بیانات ور اس کے علاقائی امن پر ااثرات ، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور مسئلہ کشمیر سمیت مختلف موضوعات پر اراکین کانگریس کو پاکستان کے اصولی موقف پر بریفنگ دی ، پاکستانی وفد نے علاقائی امن، انسداد دہشت گردی کی کوششوں، اور حالیہ بھارتی جارحیت کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: مسئلہ کشمیر
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔