نئے مالی سال کابجٹ، وزیراعظم آفس کی سجاوٹ کیلئے6 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔06 جون 2025) نئے مالی سال کے بجٹ میں وزیراعظم آفس کی سجاوٹ کیلئے6 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھنے کی تجویزدیدی گئی،نئے مالی سال کے بجٹ میں وزیراعظم آفس کی سجاوٹ کیلئے بھی فنڈز مختص کئے گئے ہیں،پی ایم اسٹاف کالونی کی تزئین وآرائش کیلئے 5 کروڑ50 لاکھ روپے کے فنڈز مختص کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔میڈیا رپور ٹس کے مطابق منصوبے پر30جون 2025 تک18 کروڑ روپےکےاخراجات کاتخمینہ ہے،آئندہ مالی سال پی ایم آفس کی تزئین وآرائش پرمزیداخراجات کیلئے فنڈز کی تجویز بھی رکھی گئی ہے۔
اس منصوبے کو34 کروڑ 31 لاکھ روپے کی مجموعی لاگت کےساتھ منظور کیا گیاتھا۔ آئندہ نئے مالی سال کے بجٹ میں منسٹرز انکلیو اسلام آباد میں 12 اپارٹمنٹس کی تعمیرکیلئے 13 کروڑ 27 لاکھ روپے کی تجویز ہے۔(جاری ہے)
شہید ملت بلڈنگ میں لفٹوں کی بحالی و تبدیلی کیلئے5 کروڑ 36 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔بجٹ دستاویز کے مطا بق اس منصوبے پر 30 جون 2025 تک 18 کروڑ روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔
واضح رہے کہ اس سے قبل آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پی ایس ڈی پی 26-2025 میں صحت کے شعبے کیلئے 15 ارب 34 کروڑ 35 لاکھ روپے کی رقم مختص کر دی گئی۔پی ایس ڈی پی میں صحت کے 18 جاری اور 3 نئے منصوبے شامل کئے گئے ہیں۔ ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے وزیراعظم قومی پروگرام کیلئے 1 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔اسی طرح شوگر کی روک تھام کے وزیراعظم قومی پروگرام کیلئے 80 کروڑ روپے مختص جبکہ قائداعظم ہیلتھ ٹاور اسلام آباد کی تعمیر کے لیے 5 ارب روپے کی تجویز ہے۔اسلام آباد میں کینسر ہسپتال کی تعمیر کیلئے ایک ارب 70 کروڑ 10 لاکھ روپے جبکہ انفیکشیس ڈیزیز لیبارٹری کی تعمیر کیلئے 10کروڑ مختص کئے گئے ہیں۔وفاقی و ضلعی سطح پر صحت کی سہولیات کے انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے خصوصی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مالی سال کے بجٹ میں مختص کئے گئے ہیں نئے مالی سال اسلام آباد لاکھ روپے کی تجویز روپے کی آفس کی
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔