پاک بھارت عوام امن چاہتے، نفرت اور تقسیم کے بیانیے کو دفن کر دیں گے: بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
لندن (نیوز ڈیسک) چیئرمین پیپلزپارٹی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے عوام امن چاہتے ہیں، ہم نفرت اور تقسیم کے بیانیے کو دفن کر دیں گے۔
برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان کو بریفنگ کے بعد بلاول بھٹو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں ماضی کی طرف نہیں، ہمارے خطے میں امن سب کے حق میں ہے، امن کیلئے آواز اٹھانے والے ہی کامیاب ہونگے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھاکہ بھارت اپنے عوام سمیت خطے کو تقسیم کرنا چاہتا ہے، امن کا پیغام جیت جائے گا بھارت کا جنگ کا پیغام ہار جائے گا، بھارت سے غیر مشروط اور جامع مذاکرات چاہتے ہیں، مسائل کا حل جنگ سے نہیں مذاکرات سے ہے، مسئلہ کشمیر اب بھی حل طلب ہے۔
برطانوی تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کاکہنا تھا کہ مودی سرکار کی پانی بند کرنے کی دھمکی جنگ کے مترادف ہے۔
بلاول بھٹو کی قیادت میں سفارتی وفد نے برطانوی پارلیمانی انڈر سیکرٹری ہیمش فالکنر سے بھی ملاقات کی، بھارتی فوجی اشتعال انگیزیوں کے تناظر میں خطے میں بڑھتی کشیدگی پر گفتگو کی گئی۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔