پاکستان میں صرف 5 فیصد افراد نے ٹیکس دینا ہے وہ بھی نہیں دے رہے، چیئرمین ایف بی آر
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
پاکستان میں صرف 5 فیصد افراد نے ٹیکس دینا ہے وہ بھی نہیں دے رہے، چیئرمین ایف بی آر WhatsAppFacebookTwitter 0 13 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) چیئرمین ایف بی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف 5 فیصد افراد نے ہی ٹیکس دینا ہے لیکن وہ بھی نہیں دے رہے، ملک میں سالانہ 7100 ارب روپے کے ٹیکس گیپ کی نشاندہی کی گئی ہے، مینوفیکچرنگ سیکٹر سے 3100 ارب روپے کا ٹیکس نہیں آتا، بارڈر پر اسمگلنگ سے 500 ارب روپے ریونیو کے نقصانات ہورہے ہیں، شوگر سیکٹر کی مانیٹرنگ بہتر ہونے سے ٹیکس ریونیو میں 50 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
سید نوید قمر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا، جس میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمد لنگڑیال نے فنانس بل پر بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سالانہ 7100 ارب روپے کے ٹیکس گیپ کی نشاندہی کی گئی ہے، پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب دوسرے ملکوں سے کم ہے، رواں مالی سال اس شرح کو 8 فیصد سے بڑھا کر 10.
راشد محمد لنگڑیال کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آمدن کے لحاظ سے 6 لاکھ 70 ہزار گھرانے ٹاپ کیٹیگری میں شامل ہیں، ملک کی 6 کروڑ 70 لاکھ آبادی برسر روزگار ہے، بچوں اور بوڑھوں سمیت 13 کروڑ 20 لاکھ کی آبادی لیبر فورس سے باہر ہے، ان میں 18 سال سے کمر عمر کے 12 کروڑ 70 لاکھ افراد شامل ہیں، بزرگ یا بوڑھے افراد کی تعداد 50 لاکھ سے زیادہ ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پاکستان میں 5 فیصد افراد نے ہی ٹیکس دینا ہے، 5 فیصد لوگوں نے جو ٹیکس دینا ہے وہ نہیں دے رہے ہیں، مینوفیکچرنگ سیکٹر سے 3100 ارب روپے کا ٹیکس نہیں آتا، اس وقت چاغی ضلع کے بارڈر سے اسمگلنگ ہورہی ہے، بارڈرز کے باقی علاقوں میں سختی ہے، چاغی کا بارڈر بڑا ہے، بارڈر پر اسمگلنگ سے 500 ارب روپے ریونیو کے نقصانات ہورہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ شوگر سیکٹر کی مانیٹرنگ بہتر ہونے سے ٹیکس ریونیو میں 50 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، ایرانی پیٹرول کی اسمگلنگ روکنے سے ملک کا درآمدی بل بڑھ جاتا ہے، پاکستان میں 94 فیصد گھرانوں کے پاس ایئرکنڈیشن کی سہولت نہیں ہے، اسمگلنگ روکنے کیلئے کارگو ٹریکنگ سسٹم متعارف کرا رہے ہیں، مختلف علاقوں میں ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز قائم کررہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعلیمہ، عظمیٰ کی درخواست منظور، بار بار ضمانتوں پر عدالت برہم علیمہ، عظمیٰ کی درخواست منظور، بار بار ضمانتوں پر عدالت برہم ایران پر حملہ علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے، صدر اور وزیراعظم کی شدید مذمت قومی اسمبلی میں ایران پر اسرائیلی حملہ کیخلاف قرارداد متفقہ منظور ایران اسرائیل کشیدگی: پاکستانی زائرین کی سہولت کے لیے وزارت خارجہ میں کرائسس منیجمنٹ سیل قائم گرمی کے ستائے شہریوں کیلئے خوشخبری، محکمہ موسمیات نے بارش کی پیشگوئی کردی خطرے کے خاتمے تک ایران پر حملہ جاری رہے گا، اسرائیلی وزیراعظمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیئرمین ایف بی ا ر فیصد افراد نے ٹیکس دینا ہے پاکستان میں نہیں دے رہے ارب روپے کا رہے ہیں
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔