ہانگ کانگ سے نئی دہلی جانے والی ایئر انڈیا کا بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر طیارہ پیر کے روز پرواز کے دوران تکنیکی مسئلے کے شبہ پر احتیاطی تدبیر کے طور پر ہانگ کانگ واپس لوٹ آیا، اس بات کی تصدیق برطانوی خبر رساں ادارے نے اپنے قابل اعتماد اور واقع سے براہِ راست واقف ذریعے کے توسط سے کی ہے۔

مذکورہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب چند روز قبل ایئر انڈیا کی ایک اور بوئنگ ڈریم لائنر پرواز، جو لندن جا رہی تھی، بھارتی شہر احمد آباد میں پرواز کے فوراً بعد گر کر تباہ ہو گئی تھی، جس میں 242 میں سے 241 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: احمد آباد میں ایئر انڈیا کا طیارہ کریش، امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بوئنگ کمپنی کے شیئرز گر گئے

ذرائع کے مطابق پیر کے روز ہانگ کانگ سے اڑان بھرنے والی پرواز اے آئی 315 اس وقت واپس لوٹ آئی جب پائلٹ کو فضا میں کسی ممکنہ تکنیکی خرابی کا شک ہوا، طیارے کو ہانگ کانگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دوپہر 1 بجے کے قریب ہنگامی لینڈنگ کے لیے تیار کیا گیا، جہاں طیارہ 1:15 بجے بحفاظت لینڈ کر گیا۔

ایئرپورٹ اتھارٹی ہانگ کانگ کے ترجمان کے مطابق ایئرپورٹ کی سرگرمیاں اس واقعے سے متاثر نہیں ہوئیں، پرواز نے دوپہر 12:20 بجے ہانگ کانگ سے اڑان بھری اور تقریباً ایک گھنٹے بعد واپس لینڈ کیا، فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ایئرنیو ریڈار کے مطابق طیارہ 22 ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچا تھا، جس کے بعد اس نے نیچے آنا شروع کر دیا۔

مزید پڑھیں: بم کی اطلاع پر ایئر انڈیا پرواز کی تھائی لینڈ کے سیاحتی جزیرے پرہنگامی لینڈنگ

حادثے کا شکار ہونے والی گزشتہ پرواز کے بعد ایئر انڈیا اور بوئنگ دونوں کے لیے یہ ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایئر انڈیا اپنے بیڑے کو جدید بنانے اور بوئنگ اپنی ساکھ بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

بوئنگ اور ایئر انڈیا دونوں کی جانب سے اس تازہ واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احمدآباد ایئر انڈیا ایئرنیو ریڈار بوئنگ پائلٹ تکنیکی مسئلے ڈریم لائنر فلائٹ ٹریکنگ لندن ہانگ کانگ ہنگامی لینڈنگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایئر انڈیا ایئرنیو ریڈار پائلٹ تکنیکی مسئلے ڈریم لائنر فلائٹ ٹریکنگ ہانگ کانگ ہنگامی لینڈنگ ایئر انڈیا ہانگ کانگ

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا