علاقائی کشیدگی کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس آج اسلام آباد میں ہوا۔یہ کمیٹی وزیر اعظم کی ہدایت پر اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملے اور تیل کی بین الاقوامی منڈیوں میں پیدا ہونے والے اتار چڑھاؤ کے بعد ابھرتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر تشکیل دی گئی تھی۔کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کر رہے ہیں اور اس میں اہم وفاقی وزارتوں، ریگولیٹری اتھارٹیز اور توانائی کے شعبے کے ماہرین کے سینئر نمائندے شامل ہیں۔اس کمیٹی کی تشکیل بین الاقوامی غیر یقینی صورتحال کے دوران قومی توانائی کے مفادات کے تحفظ اور مارکیٹ کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے فعال انداز کی عکاسی کرتی ہے۔کمیٹی نے عالمی اور ملکی پٹرولیم مارکیٹ کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان میں اس وقت پٹرولیم مصنوعات کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور سپلائی میں خلل کا فوری خطرہ نہیں ہے۔تاہم، اراکین نے تیزی سے بدلتے ہوئے علاقائی تناظر کے پیش نظر مسلسل چوکسی کی ضرورت پر زور دیا۔ایک ورکنگ گروپ بروقت ردعمل اور موثر رابطہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت کی نگرانی کرے گا، جبکہ کمیٹی صورتحال کا جائزہ لینے اور وزیر اعظم کو سفارشات پیش کرنے کے لیے ہفتہ وار اجلاس کرے گی۔پیٹرولیم ڈویژن کو سیکریٹریل سپورٹ فراہم کرنے اور کمیٹی کے مینڈیٹ پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔حکومت پاکستان اس نازک وقت میں توانائی کے تحفظ، منڈیوں کو مستحکم کرنے اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

اشتہار

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: کے تحفظ کے لیے

پڑھیں:

دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔

مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔

سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا