پی آئی اے کی نجکاری: 8 بڑی کمپنیاں میدان میں آ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:پاکستان کی قومی ایئرلائن، پی آئی اے ایک بار پھر نجکاری کے عمل میں داخل ہو چکی ہے اور اس بار حکومت کو پہلے سے کہیں زیادہ مثبت ردعمل موصول ہوا ہے۔
نجکاری کمیشن کو قومی ایئرلائن کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والے 8 مختلف اداروں اور کاروباری گروپس سے باضابطہ طور پر دلچسپی کے خطوط موصول ہوئے ہیں۔ اس پیشرفت کو نجکاری کے عمل میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو مالیاتی چیلنجز اور سرکاری اداروں کے خسارے کا سامنا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 19 جون کو کوالیفیکیشن دستاویزات جمع کرانے کی آخری تاریخ تک کمیشن کو 5پارٹیوں کی جانب سے باضابطہ کوالیفیکیشن فائلیں موصول ہوئیں جب کہ مجموعی طور پر 8کاروباری اداروں اور گروپس نے اس عمل میں شریک ہونے کی خواہش کا اظہار کیا۔
یہ پیشرفت حکومت کی جانب سے پی آئی اے کو ایک منافع بخش اور جدید ادارے میں تبدیل کرنے کی مسلسل کوششوں کا تسلسل ہے۔
حاصل شدہ معلومات کے مطابق ان 8پارٹیوں میں کچھ معروف کاروباری نام شامل ہیں جو پاکستان میں صنعت، تعلیم، سرمایہ کاری اور ہوا بازی کے شعبے میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ دستاویز جمع کرانے والے گروپس میں وہ کنسورشیم بھی شامل ہے جو لکی سیمنٹ، حب پاور، کوہاٹ سیمنٹ اور میٹرو وینچرز پر مشتمل ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور مضبوط امیدوار گروپ میں عارف حبیب، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی اسکول اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں۔ ان دونوں گروپس کی شمولیت سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ملک کی کاروباری برادری قومی ایئرلائن کے ممکنہ تجارتی امکانات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
دلچسپی ظاہر کرنے والے دیگر اہم اداروں میں ایئر بلیو اور فوجی فرٹیلائزر کمپنی بھی شامل ہیں، جنہوں نے نہ صرف رسمی دلچسپی ظاہر کی بلکہ اپنی کوالیفکیشن دستاویزات بھی کمیشن کے حوالے کیں۔ ان کے علاوہ آگمنٹ سیکیورٹیز، سیرین ایئر، بحریہ فاؤنڈیشن، میگا ہولڈنگ اور ایکویٹاس جیسے نامور اداروں نے بھی اجتماعی طور پر پی آئی اے کی خریداری میں شراکت داری کی خواہش ظاہر کی ہے۔
نجکاری کمیشن کے اعلامیے کے مطابق موصول ہونے والی دستاویزات کو ایک خاص پری کوالیفکیشن معیار کے تحت جانچا جا رہا ہے۔ کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ ان دستاویزات کی چھان بین اور تجزیے کے بعد اہل قرار دی گئی پارٹیوں کو ڈیٹا روم تک رسائی دی جائے گی، جہاں وہ پی آئی اے کے مالیاتی، آپریشنل اور قانونی معاملات کا تفصیلی جائزہ لے سکیں گی۔
اس ڈیٹا روم کو ورچوئل انداز میں مرتب کیا گیا ہے اور اسے بائی سائیڈ ڈیو ڈیلیجنس کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی مختلف ادوار میں اس قومی ایئرلائن کی بحالی، بہتری یا نجکاری کی کوششیں کی گئیں لیکن بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث وہ کامیاب نہ ہو سکیں، تاہم موجودہ حکومت نے اس بار اس عمل کو مزید شفاف، منظم اور تیز تر بنانے کا عندیہ دیا ہے۔
کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس بار نجکاری کا عمل کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف ایک قومی بوجھ سے چھٹکارے کا ذریعہ بنے گا بلکہ پی آئی اے کو ایک جدید، مسابقتی اور منافع بخش ادارے میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔ ساتھ ہی حکومت کے لیے بھی مالیاتی ریلیف حاصل کرنے کا ایک بڑا موقع ہوگا، کیونکہ پی آئی اے کا خسارہ قومی خزانے پر بوجھ بن چکا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر مناسب سرمایہ کاری، جدید انتظامی نظام اور پیشہ ورانہ ٹیم کے ساتھ نجی شعبہ اس ادارے کو سنبھالے تو یہ دوبارہ وہی شان واپس لا سکتا ہے جو ایک زمانے میں پی آئی اے کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلے میں اہل قرار دی گئی پارٹیوں کے ساتھ مزید تفصیلی بات چیت کی جائے گی، جس کے بعد ٹیکنیکل اور فنانشل بڈنگ کا عمل شروع کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قومی ایئرلائن پی آئی اے کی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔