امریکی درخواست پر قطر کی ثالثی: ایران اور اسرائیل میں جنگ بندی کا آغاز WhatsAppFacebookTwitter 0 24 June, 2025 سب نیوز

تہران، واشنگٹن(آئی پی ایس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے جنگ بندی پر راضی ہونے کے اعلان پر عملدرآمد کا آغاز ہو گیا، ایران کے سرکاری ٹی وی نے جنگ بندی کے آغاز کی خبر نشر کر دی ہے جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نے بھی طویل خاموشی کے بعد باقاعدہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔
اسرائیلی وزیراعظم کا باقاعدہ جنگ بندی کا اعلان
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے طویل خاموشی کے بعد باقاعدہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا، جنگ بندی کا فیصلہ امریکی صدر ٹرمپ سے ہم آہنگی کے بعد کیا گیا۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری اعلامیہ میں خبر دار کیا گیا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی پر بھرپور جواب دیا جائے گا، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
ایران میں شہریوں کا جشن
اس سے پہلے ایران کی جانب سے جنگ بندی کا آغاز کر دیا گیا ہے، جنگ بندی اعلان کے بعد ایران میں شہری جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور خوشی کا اظہار کیا۔
ایرانی پریس ٹی وی کے مطابق اسرائیل پر 4 حملوں کے بعد جنگ بندی پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے، نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے بھی جنگ بندی کے آغاز کی خبر نشر کر دی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے بھی جنگ بندی کے آغاز کی تصدیق کر دی ہے اور اسرائیل نے اپنی فضائی حدود بھی کھول دی ہیں مگر نیتن یاہو ابھی تک خاموش ہیں، ان پر سکتہ طاری ہے۔
فتح پر ملتِ اور شہدا کے اہلخانہ کو مبارکباد: سربراہ پاسداران انقلاب
ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے سربراہ پاکپور نے کہا ہے کہ کامیابی اور فتح پر ملت ایران اور شہدا کے اہل خانہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی تو منہ توڑ جواب ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ کامیابی اور فتح ملت ایران کے اتحاد اور شہدا کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

امریکا کے صدر نے اپنے سوشل پلیٹ فارم پر لکھا ہے کہ جنگ بندی کا آغاز ہو چکا ہے، گزارش ہے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔

قبل ازیں ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کہا کہ سب کو مبارک ہو، اسرائیل اور ایران کے درمیان مکمل جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور اسرائیل پہلے اپنے جاری آخری مشن مکمل کریں گے جس کے بعد اگلے 6 گھنٹوں بعد جنگ بندی کا آغاز ہوجائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ باضابطہ طور پر جنگ بندی کا آغاز پہلے ایران کرے گا اور 12ویں گھنٹے پر اسرائیل بھی جنگ بندی شروع کردے گا جب کہ 24ویں گھنٹے پر 12 روزہ جنگ کے خاتمے کو دنیا بھر میں باقاعدہ طور پر تسلیم کیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ جنگ بندی کے دوران دونوں فریق پرامن اور باعزت رویہ اختیار کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سب کچھ منصوبے کے مطابق چلے گا اور ایسا ہوتا ہے تو میں اسرائیل اور ایران دونوں کو ان کی ہمت، استقامت، اور دانشمندی پر مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ایسی جنگ کو ختم کیا جسے برسوں جاری رکھا جا سکتا تھا۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ دنیا اور مشرق وسطیٰ فاتح ہیں، ایران اور اسرائیل کا مستقبل لامحدود ہے، دونوں کو بہت خوشحالی ملے گی، اگر یہ درست راستے سے ہٹ گئے تو بہت کھوئیں گے۔

امیر قطر کا امن کی کوششوں پر شکریہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اب اپنی کارروائی مکمل کرچکا ہے اور امید ہے کہ اب ایران امن کی جانب لوٹے گا، اسرائیل کو بھی امن کی جانب بڑھنے کی ترغیب دیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کا ردعمل بہت کمزور تھا، ایران کی طرف سے داغے گئے 14 میزائلوں میں سے 13 کو مار گرایا گیا ہے، کسی امریکی کو نقصان نہیں پہنچا اور ایران کے حملے میں بہت کم نقصان ہوا۔

ٹرمپ نے امریکہ کو حملوں کے بارے میں جلد مطلع کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا، ٹرمپ نے امن کی کوششوں پر امیر قطر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ٹرمپ نے سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایران میں ہم نے جن مقامات کو نشانہ بنایا وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئے، ہر کوئی اسے جانتا ہے، صرف جعلی خبریں ہی حالات کو کم از کم کرنے کی کوشش میں اس کے خلاف دعویٰ کریں گی، انہوں نے کہا کہ وہ تنصیبات بہت اچھی طرح سے تباہ ہو گئی ہیں۔

اسرائیل جارحیت روک دے تو جواب نہیں دیں گے: عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اگر اسرائیل اپنی غیر قانونی جارحیت بند کر دیتا ہے تو ایران کا اس کے بعد اپنا ردعمل جاری رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ابھی تک جنگ بندی یا فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے، فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے بارے میں حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

عباس عراقچی نے واضح نے کیا کہ ایرانی افواج نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف کارروائیاں مقامی وقت کے مطابق چار بجے تک ایرانی حملے جاری رکھی ہیں، آپریشنز کامیابی سے مکمل کیے، اس کے بعد اسرائیل حملہ نہ کرے تو ہم بھی جواب نہیں دیں گے۔

انہوں نے ایرانی افواج کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی افواج ہر حملے کا جواب دینے کے لیے خون کے آخری قطرے تک تیار ہیں ، جارحیت کے خلاف ہماری افواج آخری لمحے تک سرگرم ہیں، ایرانی قوم اپنی افواج کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے۔

ایران قطر کی ثالثی میں جنگ بندی پر راضی ہوا

سینئرایرانی عہدیدار کےمطابق ایران نےاسرائیل سےجنگ بندی کی تجویز کوقبول کرلیا، ایران قطرکی ثالثی میں جنگ بندی پر رضا مند ہوا۔

ذرائع کے مطابق ڈونلڈٹرمپ اورجےڈی وینس نےجنگ بندی کی تجویز پر قطری امیر سے بات کی، امریکی صدر نےکہا کہ اسرائیل جنگ بندی کیلئےمتفق ہے، امیرقطر سےکہا کہ ایران کو جنگ بندی پر راضی کرنے میں مدد کریں۔

قطری وزیراعظم نے فون کر کے جنگ بندی کے لیے ایران کی رضا مندی حاصل کی، جنگ بندی کے اعلان پر ایران میں جشن مناتے ہوئے لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔

نیتن یاہو کی خاموشی
یاد رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور ایران کے جنگ بندی پر راضی ہونے کے اعلان پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے خاموشی برقرار رہی جس پر اسرائیلی میڈیا نے بھی سوال اٹھایا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو کی خاموشی ٹرمپ کے اعلان پر سوالیہ نشان ہے جبکہ نیتن یاہو نے آج صبح سکیورٹی کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلایا۔
اسرائیلی میڈیا نے بتایا ہے کہ اسرائیلی وزراء کو میڈیا پر بیان دینے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کی تصدیق کردی، عملدرآمد شروع اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کی تصدیق کردی، عملدرآمد شروع جنگ بندی سے پہلے ایران کا اسرائیل پر میزائل حملہ، 4 اسرائیلی ہلاک، متعدد زخمی ایران، اسرائیل جنگ بندی پر راضی: ٹرمپ، تہران کی تصدیق، نیتن یاہو خاموش قطر ہمارا بھائی،یہ حملہ قطر پر نہیں امریکی فوجی اڈوں پر کیا گیا ، ایرانی سپریم کونسل متحدہ عرب امارات کی ائیر سپیس خالی ہونا شروع، درجنوں پروازیں متبادل روٹس پر منتقل جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں ،قطر کی جانب سے امریکی فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کی مذمت TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیراعظم ایران اور اسرائیل جنگ بندی کا ا غاز اسرائیلی میڈیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی کے ا کے اعلان پر جنگ بندی کی امریکی صدر کی جانب سے ایران میں اور ایران نیتن یاہو نے کہا کہ کہا ہے کہ انہوں نے ایران کی کے مطابق ایران کے نے ایران کی ثالثی کہ ایران کی تصدیق جائے گا کے خلاف گیا ہے کے بعد نے بھی قطر کی امن کی کر دیا

پڑھیں:

ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔

امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔

امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل