ایران، اسرائیل کشیدگی: قطر میں امریکی اڈے پر حملے سے جنگ بندی تک
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ امریکا اور ایران کے درمیان تلخ بیانات، حملے اور جوابی کارروائیوں نے صورت حال کو مزید خطرناک بنا دیا۔ قطر میں امریکی اڈے پر ایرانی میزائل حملے سے لے کر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اچانک جنگ بندی کے اعلان تک، 48 گھنٹوں میں رونما ہونے والے ان واقعات نے عالمی سیاست اور سیکیورٹی کو لرزا کر رکھ دیا۔ ذیل میں ان اہم واقعات کی ایک جامع ٹائم لائن پیش کی جا رہی ہے:
13 جون 2025
اسرائیل نے ایران میں ’رائزنگ لائن‘ آپریشن کے تحت جوہری تنصیبات اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنایا۔ کشیدگی کا باضابطہ آغاز ہوا۔
22 جون 2025
امریکی B‑2 بمبار طیاروں نے ایران کے جوہری مراکز فرود ، نظنز اور اصفہان پر 30 ہزار پاؤنڈ وزنی بم برسائے۔
23 جون 2025 (درمیانی شب)
ایران نے قطر میں واقع امریکی فضائی اڈے ’العدید‘ پر 6 بیلسٹک میزائل فائر کیے، تاہم قطری دفاعی نظام نے تمام میزائل فضا میں ناکام بنا دیے، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: ایران اور اسرائیل جنگ بندی پر راضی ہوگئے، صدر ٹرمپ کا اعلان
23 جون 2025 (رات گئے)
ایران کی جانب سے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملے، جوابی کارروائی میں اسرائیل نے تہران، فرود اور ایون جیل کو نشانہ بنایا، درجنوں ہلاکتیں ہوئیں۔
23 جون 2025 (رات 11 بجے، واشنگٹن وقت)
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ پر اعلان کیا کہ ایران اور اسرائیل مکمل جنگ بندی پر راضی ہو گئے ہیں، جس پر مرحلہ وار عملدرآمد ہوگا۔
24 جون 2025 (تہران وقت 4 بجے صبح)
ایران نے اعلان کیا کہ اگر اسرائیل صبح 4 بجے سے پہلے حملے بند کر دے تو وہ بھی کارروائی روک دے گا۔ تاہم اسرائیل کے کچھ علاقوں میں ایرانی میزائل گرے، 3 افراد ہلاک ہوئے۔
24 جون 2025 (دن)
عالمی منڈی نے مثبت ردعمل دیا، خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ امریک صدر کا قطر کے امیر سے ٹیلیفونک رابطہ، قطر کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں رنگ لے آئیں۔ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا، تاہم اسرائیلی حکومت نے تاحال رسمی تصدیق نہیں کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران جنگ بندی قطر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔