لاہور، غیرنمونہ نمبرپلٹ والی گاڑی روکنے پر وکلا نے ٹریفک وارڈنز کی پٹائی کردی
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
لاہور میں ایک غیر نمونہ نمبر پلیٹ والی گاڑی کو روکنا ٹریفک وارڈنز کو مہنگا پڑ گیا، وکلا نے ٹریفک وارڈنز کی پٹائی کردی۔
یہ بھی پڑھیں: ’ان کو نشانِ عبرت بنانا چاہیے‘، عدالت پیشی کے موقع سلمان فاروقی کی پٹائی ہو گئی
لاہور کے علاقے مزنگ میں وکلا اور ٹریفک وارڈنز کے درمیان معمولی بات پر جھگڑا شدت اختیار کر گیا اور بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی، ٹریفک وارڈنز نے غیر نمونہ نمبر پلیٹ پر ایک گاڑی کو روکا جس میں وکلا سوار تھے، ٹریفک وارڈنز کی جانب سے روکے جانے پر وکلا نے ٹریفک وارڈنز پر تشدد کیا۔
لاہور، مزنگ
وکلاء کا ٹریفک وارڈن کو سڑک پر لٹا کر تشدد pic.
— Muhammad Umair (@MohUmair87) June 26, 2025
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وکلا اور ان کے ساتھی ٹریفک وارڈن پر لاتوں اور گھونسوں سے حملہ کر رہے ہیں۔ موقع پر موجود شہریوں نے واقعے کی ویڈیو بنائی، جس میں ٹریفک وارڈنز کو مزاحمت کرتے اور وکلا کو روکنے کی کوشش کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی ایچ اے لاہور میں گارڈز کی پٹائی ویگو سواروں کو مہنگی پڑ گئی
تشدد کے بعد وکلاء جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ متاثرہ وارڈن کو فوری طور پر طبی امداد دی گئی،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملوث افراد کی شناخت کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان تشدد ٹریفک وارڈنز لاہور وکلا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان ٹریفک وارڈنز لاہور وکلا ٹریفک وارڈنز کی پٹائی
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔