عدنان قتل کیس: سابق سینیٹر چودھری تنویر کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
عدنان قتل کیس: سابق سینیٹر چودھری تنویر کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم WhatsAppFacebookTwitter 0 28 June, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(آئی پی ایس) سابق پارلیمانی سیکرٹری چودھری عدنان قتل کیس میں گرفتار سابق سینیٹر چودھری تنویر خان کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی گئی۔
ایڈیشنل سیشن جج چودھری ماجد حسین گادی نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ آج سناتے ہوئے سابق سینیٹر کی ضمانت منظور کی اور عدالت نے چودھری تنویر خان کو دس، دس لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔
واضح رہے کہ سابق سینیٹر پر چودھری عدنان کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام ہے جس کا مقدمہ تھانہ سول لائن پولیس نے درج کر رکھا ہے۔
چودھری تنویر خان نے ہائیکورٹ راولپنڈی میں خود کو سرنڈر کیا تھا جس کے بعد جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا، اڈیالہ جیل میں طبیعت خراب ہونے پر انہیں راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی (آر آئی سی) منتقل کیا گیا تھا۔
عدالت سے ضمانت کی منظوری اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو روبکار موصول ہونے کے بعد سابق سینیٹر چوہدری تنویر خان کو رہا کرنے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک بحریہ کی پروقار پاسنگ آؤٹ پریڈ، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خصوصی شرکت امریکا میں پیدا بچوں کی شہریت سے متعلق سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ ابو کے پاس بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، ایران کا اسرائیل پر طنزیہ وار پلاٹ، گاڑی کی خریداری کیلئے ایف بی آر سے اہلیت سرٹیفکیٹ لازمی قرار دینے کا فیصلہ بھارت کو عالمی سطح پر بڑی شکست، سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی بھارتی استدعا مسترد سپریم کورٹ کا فیصلہ، قومی و صوبائی اسمبلیوں میں کس جماعت کو کتنی مخصوص نشستیں ملیں گی؟،تفصیلات سب نیوز پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا مخصوص نشستوں کے حوالے سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے فیصلے کا خیرمقدمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چودھری تنویر سابق سینیٹر
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔