میرپور خاص: چند گھنٹوں کی بارش نے شہر کا نظام درہم برہم کردیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص(بیورورپورٹ) میرپورخاص میں جمعرات کی شام ہونے والی تیز بارش کے بعد بجلی کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو گیا تھا، جس کے باعث پورا شہر تاریکی میں ڈوب گیا تھا، بجلی کی بندش کا سلسلہ 36 گھنٹے تک جاری رہا، جس کے بعد محکمہ حیسکو نے 18 فیڈرز پر بجلی جزوی طور پر بحال کر دی ہے شہریوں کے مطابق بارش شروع ہوتے ہی تمام فیڈرز ٹرپ کر گئے تھے جس کے بعد شہر اور گرد و نواح کے علاقوں میں بجلی کی مکمل بندش رہی بجلی کی عدم فراہمی کے باعث شہری شدید اذیت میں مبتلا رہے خاص طور پر گرمی اور حبس کے دوران عوام نے سخت پریشانی کا سامنا کیا اس طویل بندش کے دوران پینے کے پانی کی سپلائی بھی معطل رہی کیونکہ پانی کی موٹریں اور پمپنگ اسٹیشنز بجلی کے بغیر کام نہیں کر سکے متعدد علاقوں میں شہری پانی کے حصول کے لئے دربدر رہے شہریوں نے حیسکو حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی بحالی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں اور مستقبل میں اس طرح کی طویل بندش سے بچنے کے لئے نظام کو بہتر بنایا جائے دوسری جانب حیسکو ذرائع کے مطابق باقی ماندہ فیڈرز پر کام جاری ہے اور جلد ہی مکمل بحالی ممکن ہو جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بجلی کی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔