امریکہ نے اسرائیل کو ایران سے بچانے کیلئے اپنے انٹرسیپٹر میزائلوں کا 20 فیصد ذخیرہ پھونک دیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ نے ایران کے فضائی حملوں کے خلاف دفاع مضبوط کرنے کے لیے اپنے جدید اینٹی میزائل نظام ”تھاد“ (Terminal High Altitude Area Defense – THAAD) کا 15 سے 20 فیصد تک استعمال کر ڈالا۔

یہ استعمال اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ دوران ہوا۔

ملٹری واچ میگزین کے مطابق اس تنازع کے دوران اندازاً 60 سے 80 تھاد انٹرسیپٹرز استعمال کیے گئے۔ ایک تھاد انٹرسیپٹر کی لاگت 12 سے 15 ملین امریکی ڈالر کے درمیان ہے، جس کے نتیجے میں ان کے مجموعی اخراجات 810 ملین سے 1.

215 ارب امریکی ڈالر تک جا پہنچے۔ یہ لاگت ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل حملوں کی قیمت سے کہیں زیادہ ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکہ نے 2024 میں اسرائیل میں موجود تھاد سسٹم کو دوبارہ اسٹاک کیا تھا۔

ایران نے اپنی جوہری اور عسکری تنصیبات پر حملوں کے ردعمل میں اسرائیل کے مختلف شہروں پر میزائلوں کی بارش کی تھی۔ ان میزائلوں میں ”غدیر“، ”عماد“، ”خیبر شکن“، اور ”فتح-1“ جیسے ہائپرسانک میزائل شامل تھے، جنہیں روکنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ آواز کی رفتار سے 15 گنا (Mach 15) تک تیز سفر کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں تھاد نظام کی تعیناتی ایک چیلنج کے طور پر سامنے آئی، کیونکہ ایسے تنازعات میں اتحادیوں کی مدد کے لیے وسائل کا استعمال امریکہ کی عسکری تیاری اور مستقبل کی تعیناتی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

مزید برآں، امریکہ سالانہ صرف 50 سے 60 تھاد انٹرسیپٹرز تیار کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ گزشتہ 11 دنوں میں جو ذخیرہ استعمال کیا گیا، اسے دوبارہ مکمل کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

Post Views: 3

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: امریکہ نے کے مطابق

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے