سجاول،بجلی کی عدم بحالی پر دڑو کے تاجر و رہائشیوں کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سجاول(نمائندہ جسارت) ضلع سجاول سندھ کے شہر دڑو کے مین کاروباری اور رہائشی علاقوں مکینوں نے دڑو شہر میں یکم محرم الحرام سے مسلسل احتجاج کر ہے ہیں جن میں سومرو، میمن، کچھی اور دیگر قومیت کے افراد شامل ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں سے واپڈا سجاول کے عملہ ہمارے علاقے کے ٹرانسفار مر سے تاریں اتار کر لے گئے ہیں جسکے باعث ان محلوں میں ہماری بجلی مسلسل بند ہے اور سخت گرمیوں کے سبب ہماری رات کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں احتجاج کرتے ہوئے کافی دن گزرگئے مگر سجاول ضلع کے ڈپٹی کمشنر ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر سجاول نے چوہڑ جمالی کا دورہ کیا اور واپڈا عملے کو بجلی کے بند فیڈر چالو کرنے کے احکامات جاری کیے اور رورل ہیلتھ سینٹر کیلیے بھی احکامات جاری کیے مگر ڈی سی ٹھٹھہ ہماری شکایتوں کا ازالہ نہیں کر رہے۔ انہوں سوال کیا کہ کیا ہم دڑو شہر والے ضلع سجاول کے رہائشی نہیں جو ہماری شکایتوں کا ڈپٹی کمشنر ازالہ نہیں کر رہے۔ انہوں نے وزیر اعلی سندھ اور کمشنر ڈویژن حیدر آباد سے مطالبہ کیا کہ ڈپٹی کمشنر سجاول کو ضلع کے تمام شہروں کے مسائل حل کرنے کیلیے پابند کیا جائے اور دڑو واپڈا عملے کے خلاف قانونی کارروائی کرکے سجاول ضلع کے شہر دڑو میں بجلی بحال کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈپٹی کمشنر
پڑھیں:
بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
کوئٹہ:پی ڈی ایم اے نے بلوچستان میں مون سون کے دوران جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کردی، دوماہ کے دوران بارشوں کے باعث چار بچوں سمیت آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق کوہلو میں آسمانی بجلی اور دیوار گرنے سے مرد اور خاتون جان کی بازی ہارگئے، خضدار میں آسمانی بجلی اور چھت گرنے سے بچے سمیت دو افراد جاں بحق ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ژوب میں آسمانی بجلی اور چھتیں گرنے سے تین بچوں سمیت چار افراد لقمہ اجل بن گئے، چھتیں گرنے سے 13 بچوں اور دو خواتین سمیت 16افراد زخمی ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث 41 گھروں کو نقصان پہنچا ان میں خضدار، ژوب، ہرنائی اور بارکھان میں 17گھر مکمل تباہ ہوگئے ہوگئے جب کہ 24 کو جزوی نقصان پہنچا۔