data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ : امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ “غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن” (GHF) کے تحت قائم کیے گئے امدادی مراکز دراصل فلسطینیوں کے لیے موت کے جال بن چکے ہیں، اقوام متحدہ، انسانی حقوق تنظیموں اور بین الاقوامی قانونی ماہرین نے ان مراکز پر ہونے والی درجنوں ہلاکتوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے GHF کی سرگرمیوں کو جنگی جرائم کے مترادف قرار دے دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق GHF کی امدادی سرگرمیوں کے آغاز (27 مئی) کے بعد سے اب تک 550 سے زائد فلسطینی شہری اسرائیلی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں جب کہ 4,000 سے زائد زخمی اور 39 افراد لاپتا ہیں، ان واقعات میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ان مراکز پر ہوئیں جہاں بھوک سے بے حال فلسطینی شہری امداد کے حصول کے لیے جمع ہوتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے دفتر (UNOCHA) کی ترجمان اولگا چیریوکو نے کہا ہےکہ  غزہ کے شہری جنہیں زندہ رہنے کے لیے خوراک لینا مجبوری بن چکا ہے، انہیں گولیاں ماری جا رہی ہیں۔ یہ عمل انسانیت کی توہین ہے اور ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسپتال زخمیوں سے بھر چکے ہیں، ادویات اور بنیادی طبی سامان کی شدید قلت ہے، جب کہ اسرائیل انسانی امداد کے داخلے کو تقریباً بند کیے ہوئے ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے دفتر کی ترجمان  نے کہا کہ “GHF کا ماڈل ناکام ہو چکا ہے، صرف اقوام متحدہ کے ذریعے امداد کی بحالی ہی انسانی جانیں بچا سکتی ہے، یہ ایک بند گلی ہے، اس سے نکلنے کا واحد راستہ جنگ بندی، آزاد امدادی رسائی اور عالمی انسانی اصولوں کی بحالی ہے،یہ صورتحال نہ صرف اسرائیل بلکہ GHF کو بھی عالمی قانون کی گرفت میں لا سکتی ہے اور آنے والے دنوں میں ممکنہ طور پر متعدد ممالک میں قانونی کارروائیاں شروع ہونے کا امکان ہے۔

اقوام متحدہ سمیت 15 بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں نے GHF کی سرگرمیوں کو فوراً بند کرنے اور اقوام متحدہ و فلسطینی این جی اوز کے ذریعے امدادی عمل بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب غزہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ شہریوں کو خوراک کے بہانے ان مراکز میں بلایا جاتا ہے، پھر منصوبہ بندی کے تحت ان پر فائرنگ کی جاتی ہے،قابض ریاست خوراک کو قتلِ عام کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور امداد کے نام پر شہریوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔

GHF امدادی مراکز یا ’موت کے کیمپ‘؟

خیال رہےکہ GHF کے تحت قائم کیے گئے مراکز کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے “امدادی مراکز” قرار دیا جا رہا ہے، فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کے ادارے ان مراکز کو “موت کے کیمپ” یا “قتل گاہیں” قرار دے رہے ہیں۔

جنیوا میں قائم بین الاقوامی ادارہ TRIAL انٹرنیشنل نے GHF کے خلاف جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے،GHF امدادی اصولوں، غیر جانبداری اور انسانی تحفظ کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ  GHF کی سرگرمیاں فلسطینیوں کی جبری جنوبی نقل مکانی کی راہ ہموار کر رہی ہیں، نجی سیکیورٹی کمپنیوں کے استعمال سے شہریوں کے خلاف طاقت کے ناجائز استعمال کا خطرہ کئی گنا بڑھ چکا ہے۔

TRIAL انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ امداد کے نام پر لوگوں کو جنوبی غزہ میں منتقل کر کے نشانہ بنایا جا رہا ہے، تو GHF کی قیادت جنگی جرائم اور نسل کشی میں معاونت کے الزام میں بین الاقوامی سطح پر فوجداری مقدمات کا سامنا کر سکتی ہے۔

اقوام متحدہ نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ امدادی سرگرمیوں کو محفوظ بنانے، قحط کے شکار شہریوں کو فوری خوراک و طبی امداد فراہم کرنے، اور انسانی جانوں کو بچانے کے لیے لازمی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کی جائے اور امداد کی فراہمی اقوام متحدہ اور اس کی مجاز ایجنسیوں کے ذریعے بحال کی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی اقوام متحدہ اور انسانی ان مراکز امداد کے کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ