بلور خاندان کی سیاست سے کنارہ کشی، غلام بلور نے پشاور کو خیرباد کیوں کہا؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
عوامی نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنما اور پشاور پر 6 دہائیوں تک راج کرنے والے معروف سیاسی خاندان کے سربراہ، حاجی غلام احمد بلور نے سیاست سے کنارہ کشی کے بعد اب اپنے آبائی شہر پشاور کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ کر اسلام آباد منتقل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ بلور خاندان نے پشاور میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کے مرکز ’بلور ہاؤس‘ کو بھی فروخت کردیا ہے۔
خاندان نے تصدیق کی ہے کہ غلام بلور نے گورنر ہاؤس کے قریب واقع پشاور کا واحد ذاتی گھر، بلور ہاؤس، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اور سابق گورنر حاجی غلام علی کو بھاری قیمت پر فروخت کر دیا ہے اور اب اسلام آباد منتقل ہوچکے ہیں۔ اس وقت غلام بلور پشاور میں الوداعی ملاقاتیں کر رہے ہیں، جبکہ کبھی سیاسی سرگرمیوں سے گونجنے والا بلور ہاؤس اب ویران دکھائی دیتا ہے۔
’یہ ایک دن کا فیصلہ نہیں، 2008 سے پشاور چھوڑنے کا عمل شروع ہوچکا تھا‘خاندان کے مطابق پشاور چھوڑنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا بلکہ یہ ایک تدریجی عمل تھا جو 2008 سے شروع ہوا۔ ہارون بلور کے صاحبزادے دانیال بلور نے بتایا کہ غلام بلور نے یہ فیصلہ دل پر پتھر رکھ کر کیا۔ خاندان کا 99 فیصد حصہ پہلے ہی پشاور سے منتقل ہو چکا تھا، اور الیاس بلور کی وفات کے بعد غلام بلور بھی اس فیصلے پر آمادہ ہوئے۔ دانیال کے مطابق، بلور خاندان نے پشاور کو خود نہیں چھوڑا بلکہ حالات نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا۔
مزید پڑھیں: کیپٹن صفدر کے پشاور میں ڈیرے: کیا ن لیگ عوامی نیشنل پارٹی سے انتخابی اتحاد کر رہی ہے؟
غلام بلور کو پشاور چھوڑنے پر کیوں مجبور ہونا پڑا؟دانیال کے مطابق، خاندان کو مسلسل دہشتگردی اور ناانصافیوں کا سامنا رہا۔ سب سے پہلے بشیر بلور کو خودکش حملے میں شہید کیا گیا، اس کے بعد ہارون بلور بھی انتخابی مہم کے دوران دہشتگردوں کا نشانہ بنے۔ ان حالات نے غلام بلور کو اندر سے توڑ دیا۔ ساتھ ہی ان پر مقدمات قائم کیے گئے، جائیداد پر قبضے کی کوششیں ہوئیں، اور عدالتی پیچیدگیوں میں الجھایا گیا۔ انتخابات میں بھی اُن کے مینڈیٹ کو نظرانداز کیا گیا، جس سے وہ شدید مایوس ہوئے۔
نواسے کی سیاست میں عدم دلچسپیدانیال نے بتایا کہ غلام بلور کا اکلوتا بیٹا بشیر بلور سیاست کی نذر ہو گئے، اور ان کا نواسہ، جو لندن سے تعلیم مکمل کرکے واپس آیا ہے، سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث نواسہ اور دیگر اہل خانہ پہلے ہی اسلام آباد منتقل ہو چکے تھے۔ نواسے ہی نے غلام بلور کو یہ فیصلہ کرنے پر آمادہ کیا۔ غلام بلور کی 3 بیٹیاں بھی اسلام آباد یا بیرونِ ملک مقیم ہیں۔
بڑھاپا، بیماری اور سکون کی تلاشخاندان کے مطابق، غلام بلور اب عمر رسیدہ اور بیمار ہیں اور سکون چاہتے ہیں۔ دانیال بلور کے مطابق وہ اب بھی سماجی تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پشاور کے دکھ سکھ میں شریک رہنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: عوامی نیشنل پارٹی چارسدہ تک محدود ہو رہی ہے ؟
’بلور ہاؤس نہیں، پشاور خالی ہو گیا‘
سینیئر صحافی شمیم شاہد نے غلام بلور کی رخصتی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج صرف بلور ہاؤس نہیں، بلکہ پورا پشاور خالی ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلور خاندان 6 دہائیوں سے سیاست میں سرگرم رہا اور ان کا مقام منفرد تھا۔ بلور ہاؤس میں نواز شریف، اشرف غنی اور حامد کرزئی جیسے اہم رہنما آ چکے ہیں۔
کیا بلور خاندان کی سیاست کا باب بند ہو گیا؟دانیال بلور نے واضح کیا کہ ان کے نانا اور والد کی سیاست کے بعد اگر حالات بہتر ہوئے تو وہ خود عوامی خدمت کے لیے میدان میں آئیں گے۔ ان کی والدہ، ثمر ہارون بلور، سیاست سے دور ہوچکی ہیں اور وہ خود عدالتی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں، لیکن سیاسی ورثہ ان کے دل میں زندہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’بلور ہاؤس‘ آبائی شہر پشاور اسلام آباد الیاس بلور ثمر ہارون بلور حاجی غلام احمد بلور دانیال بلور سینیئر صحافی شمیم شاہد عوامی نیشنل پارٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلور ہاؤس آبائی شہر پشاور اسلام آباد ثمر ہارون بلور حاجی غلام احمد بلور دانیال بلور سینیئر صحافی شمیم شاہد عوامی نیشنل پارٹی عوامی نیشنل پارٹی بلور خاندان دانیال بلور ہارون بلور اسلام آباد غلام بلور بلور ہاؤس کی سیاست کے مطابق منتقل ہو بلور نے بلور کو کے بعد
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔