غزہ میں جنگ بندی پر حماس کا جواب 24 گھنٹے میں آجائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
غزہ میں جنگ بندی پر حماس کا جواب 24 گھنٹے میں آجائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ WhatsAppFacebookTwitter 0 4 July, 2025 سب نیوز
واشنگٹن(سب نیوز )اسرائیل حماس جنگ بندی ہوگی یا نہیں، امریکی صدر نے آئندہ چوبیس گھنٹے اہم قرار دے دیے، واشنگٹن روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ 24 گھنٹے میں پتا چل جائے گا کہ اسرائیل حماس ڈیل کا کیا ہوتا ہے۔مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعے کے روز واشنگٹن روانگی سے قبل امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ غزہ میں اسرائیل کے خلاف جنگ بندی سے متعلق حماس کے فیصلے کا آئندہ 24 گھنٹوں میں پتہ چل جائے گا۔
انہوں نے اس پیشکش کو حتمی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ تجویز خطے میں جاری تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار کرے گی۔صدر ٹرمپ کے مطابق اسرائیل پہلے ہی 60 دن کی عارضی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے، جس کے دوران فریقین مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کریں گے۔ تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا حماس اس پر متفق ہے تو ان کا جواب تھا: دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، آئندہ 24 گھنٹوں میں سب کچھ واضح ہو جائے گا۔
ٹرمپ نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک سے بھی بات چیت کی گئی ہے تاکہ معاہدہ ابراہم کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ ابراہم معاہدے پر پہلے ہی چار ممالک رضا مند ہو چکے ہیں، اور جلد مزید ممالک بھی شامل ہوں گے۔واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی سابق صدر ٹرمپ کے دورِ حکومت میں خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی ایک تاریخی کوشش تھی۔
ادھر حماس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ تنظیم اس تجویز پراس یقین دہانی کے بدلے غور کر رہی ہے کہ جنگ بندی بالآخر غزہ میں اسرائیل کے مسلسل حملوں کے خاتمے کا ذریعہ بنے گی۔ اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ معاہدے کی تفصیلات پر کام جاری ہے۔ دریں اثنا، صدر ٹرمپ نے دعوی کیا کہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حصول کا خطرہ طویل عرصے کے لیے ٹال دیا گیا ہے، جو امریکی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم کی ترک صدر اردوان سے ملاقات، اہم علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال وزیراعظم کی ترک صدر اردوان سے ملاقات، اہم علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہی ملک میں مہنگائی میں اضافہ شروع ہوگیا یو این ،انسانی حقوق کونسل میں پاکستانی سفارتکار نے بھارت کو آئینہ دکھا دیا وفاقی وزیر داخلہ کی امریکی عوام اور سفارتی حکام کو یوم آزادی پر مبارکباد بھارت کا پاکستان مخالف نظریہ دونوں عوام کے لیے خطرناک ہے، بلاول پی آئی اے کو 13 سال پرانے مقدمے میں بڑی کامیابی ،3ارب کا فائدہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔