data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اگرچہ پاکستان کی رسمی افرادی قوت میں خواتین کی تعداد نہایت کم ہے، لیکن گلگت بلتستان کے چند دیہات میں خواتین کی قیادت میں قائم کاروبار روایت کو چیلنج کر رہے ہیں۔ بِی بی آمنہ نے 2008 میں 30 برس کی عمر میں اپنی کارپینٹری ورکشاپ قائم کی، وہ کہتی ہیں: ’ہمارے پاس 22 ملازمین ہیں اور ہم تقریباً 100 خواتین کو تربیت دے چکے ہیں۔‘
وادی ہنزہ، جس کی آبادی تقریباً 50 ہزار ہے، خوبانی، چیری، اخروٹ اور شہتوت کے باغات سے بھرے پہاڑوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 تک پاکستان میں صرف 23 فیصد خواتین رسمی طور پر افرادی قوت کا حصہ تھیں۔دیہی علاقوں میں خواتین شاذ و نادر ہی کسی باقاعدہ ملازمت میں نظر آتی ہیں، البتہ وہ اکثر کھیتوں میں خاندان کی آمدن بڑھانے میں ہاتھبٹاتی ہیں۔گذشتہ سال شائع ہونے والے ایک گیلپ سروے کے مطابق ایک تہائی خواتین نے بتایا کہ ان کے والد یا شوہر انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے، جب کہ 43.
16 سال بعد وادی کے نظارے پیش کرنے والا ان کا سادہ سا کیفے رات کے وقت ایک مقبول سیاحتی مقام بن چکا ہے۔وہ مہمانوں کو یاک کے گوشت، خوبانی کے تیل اور پہاڑی پنیر سمیت روایتی کھانے پیش کرتی ہیں۔وہ کہتی ہیں: ’شروع میں میں اکیلی کام کرتی تھی۔ اب یہاں 11 لوگ کام کرتے ہیں، جن میں سے اکثر خواتین ہیں۔ میرے بچے بھی اسی جگہ کام کر رہے ہیں۔لال شہزادی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سفینہ نے بھی تقریباً ایک دہائی قبل اپنی نوکری چھوڑ کر اپنا ریسٹورنٹ کھولا۔انہوں نے کہا: ’کوئی میری مدد کرنے کو تیار نہیں تھا۔‘ بالآخر انہوں نے اپنے اہل خانہ کو دو گائیں اور کچھ بکریاں فروخت کرنے پر راضی کیا تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔آج وہ ماہانہ تقریباً 170 امریکی ڈالر کماتی ہیں، جو ان کی پچھلی آمدنی سے پندرہ گنا زیادہ ہے۔ ہنزہ میں خواتین کی سماجی و معاشی ترقی کی ِسب سے بڑی وجہ بہت بلند شرح خواندگی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں خواتین خواتین کی کام کر
پڑھیں:
صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں