4ماہ میں کیسز نمٹانے کے احکامات پر ناانصافی نہیں ہونی چاہئے،چیف جسٹس پاکستان کے فوادچودھری کی درخواست پر ریمارکس
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں فوادچودھری کی 9مئی کیسز کو یکجا کرنے سے متعلق درخواست پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ 4ماہ میں کیسز نمٹانے کے احکامات پر ناانصافی نہیں ہونی چاہئے،ایک دن ایک ہی کیس انسداد دہشتگردی عدالت میں چلے گا، یہ نہیں تمام کیسز کی ایک دن مختلف عدالتوں میں سماعت ہو ۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق فوادچودھری کی 9مئی کیسز کو یکجا کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی،فوادچودھری وکیل فیصل چودھری کے ہمراہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،فوادچودھری نے کہاکہ عدالتی احکامات کے باوجود ہمارا مقدمہ سماعت کیلئے نہیں لگا، سپریم کورٹ احکامات کے بعد 9مئی کیسز روزانہ چل رہے ہیں،چیف جسٹس نے کہاکہ 4ماہ میں کیسز نمٹانے کے احکامات پر ناانصافی نہیں ہونی چاہئے،ایک دن ایک ہی کیس انسداد دہشتگردی عدالت میں چلے گا، یہ نہیں تمام کیسز کی ایک دن مختلف عدالتوں میں سماعت ہو ۔
چینی ایئر چیف کا دورہ پاکستان، پاک فضائیہ کے جنگی تجربے سے سیکھنے میں دلچسپی کا اظہار
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ایک دن
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟ نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
نئے مالی سال کے لیے کم از کم اجرت مقرر کرنے کے حوالے سے نئی سفارش سامنے آ گئی۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے مالی سال 27-2026 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق پائیڈ نے اپنے شواہد پر مبنی فریم ورک کے ذریعے موجودہ 40 ہزار روپے کی تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ تجویز قومی سطح پر ملازمین کے مالی حالات کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمۂ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید، غربت کی شرح، غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔
ادارے نے مزید واضح کیا کہ تنخواہوں میں یہ ردوبدل پیداواری ترغیبات بڑھانے اور سماجی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل 2026 میں سال بہ سال بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔