جنگ بندی پر عملدرآمد نہ کیا تو اسرائیل کو نتائج بھگتنا ہونگے: برطانیہ کی سخت وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق برطانیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ میں جنگ بندی سے پیچھے ہٹتا ہے تو اس کے خلاف مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے برطانوی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع کا بیان جنگ بندی کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع یوآف گیلنٹ نے حال ہی میں کہا تھا کہ غزہ کی 20 لاکھ آبادی کو جنوبی علاقے میں منتقل کیا جانا چاہیے، جس پر برطانوی وزیر خارجہ نے شدید ردعمل دیا۔
ڈیوڈ لیمی نے کہا کہ اگر اسرائیل نے اپنے اس مؤقف پر اصرار جاری رکھا تو غزہ میں جنگ بندی کا حصول مزید مشکل ہو جائے گا، اگر اسرائیل نے جنگ بندی سے انکار کیا اور صورتحال مزید بگڑتی ہے تو برطانیہ اسرائیل کے خلاف مزید اقدامات کرے گا۔
واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی ثالثی میں جنگ بندی مذاکرات جاری ہیں اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلاء پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کا وزن بڑھ گیا، متعدد حلقوں میں نتائج پر اثر انداز ہوں گی
گلگت:گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 میں خواتین ووٹرز کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں متعدد حلقوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں معمولی فرق انتخابی نتائج پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار 480 ہے، جبکہ کم از کم پانچ حلقوں میں خواتین ووٹرز جیت اور ہار کا فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
دیامر-1 سب سے منفرد حلقہ قرار دیا جا رہا ہے جہاں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد تقریباً برابر ہے۔ اس حلقے میں مرد ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 269 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 257 ہے، یعنی دونوں کے درمیان صرف 12 ووٹوں کا فرق موجود ہے۔
مزید پڑھیںگلگت بلتستان عام انتخابات؛ پنجاب پولیس کے 5ہزار اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں گے
گلگت بلتستان انتخابات، کیا نواز شریف فعال سیاست میں واپس آ رہے ہیں؟
دوسری جانب گلگت-2 میں مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان سب سے زیادہ فرق ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں مرد ووٹرز کی تعداد خواتین کے مقابلے میں 3 ہزار 829 زیادہ ہے۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 26 ہزار 10 ہے۔
انتخابی ماہرین کے مطابق گلگت-2، ہنزہ، غذر-2، گلگت-3 اور اسکردو-2 ایسے حلقے ہیں جہاں خواتین ووٹرز نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتی ہیں۔ ہنزہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد 25 ہزار 588، غذر-2 میں 24 ہزار 945، گلگت-3 میں 24 ہزار 810 اور اسکردو-2 میں 24 ہزار 346 ہے۔
ادھر انتخابات میں خواتین کی سیاسی شرکت بھی نمایاں ہے اور 8 خواتین امیدوار مختلف حلقوں سے قسمت آزما رہی ہیں، جس سے انتخابی عمل میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کی عکاسی ہوتی ہے۔