لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی شیرپاؤ پل پر جلاؤ گھیراؤ کیس میں مجموعی طور پر 14 ملزمان کا ٹرائل مکمل کیا جس میں سے 8 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا کا حکم سنایا گیا اور 6 ملزمان کو مقدمہ سے بری کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی شیرپاؤ پل پر جلاؤ گھیراؤ کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ارشد جاوید نے کوٹ لکھپت جیل میں ٹرائل مکمل ہونے پر تھانہ سرور روڈ کے مقدمہ نمبر 97/23 کا محفوظ فیصلہ سنایا۔ پراسکیوشن کے 61 گواہان نے ملزمان کیخلاف شہادت ریکارڈ کرائی، سرکار کی جانب سے پراسیکیوٹر عبد الجبار ڈوگر نے دلائل دیئے۔ عدالت نے مجموعی طور پر 14 ملزمان کا ٹرائل مکمل کیا جس میں سے 8 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا کا حکم سنایا گیا اور 6 ملزمان کو مقدمہ سے بری کیا گیا۔ عدالت نے تحریک انصاف کی راہنما ڈاکٹر یاسمین راشد، سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ، سینیٹر اعجاز چودھری، میاں محمود الرشید، خالد قیوم، ریاض حسین ،علی حسن ،افضال عظیم پاہٹ کو 10، 10 سال قید کی سزا کا حکم سنایا۔

عدالت نے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، زباس مان، افتخار احمد، رانا تنویر، حمزہ عظیم پاہٹ اور اعزاز رفیق کو بری کر دیا۔ واضح رہے کہ لاہور کے تھانہ سرور روڈ پولیس نے 9 مئی شیر پاؤ پل پر جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کا دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج نے جیل میں ٹرائل مکمل کیا اور جیل میں قائم عدالت میں تمام ملزمان کی موجودگی مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے تمام ٹرائل کورٹس کو 9 مئی کے کیسز کا 4 ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرکے مقدمہ کا فیصلہ سنایا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جلاؤ گھیراؤ ملزمان کو عدالت نے سال قید کا حکم

پڑھیں:

نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا۔

نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق  سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔

سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول  کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی  نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔

اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں

عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں  کر سکتی۔

آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک

مزید :

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ