پنجاب: 26 اپوزیشن ارکان کی معطلی، اسپیکر کی زیرِ صدارت حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
—فائل فوٹوز
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے 26 اراکین کی معطلی کے ریفرنس کے حوالے سے لاہور میں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان اسمبلی پہنچ گئے، اسپیکر کی زیرِ صدرات اپوزیشن اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی مشاورت جاری ہے۔
حکومتی ارکان مجتبیٰ شجاع الرحمٰن، خواجہ سلمان رفیق، سمیع اللّٰہ خان، رانا ارشد، علی حیدر گیلانی، افتخار چھچھر، راحیلہ خادم اور احمد اقبال مشاورتی کمیٹی میں شامل ہیں۔
اپوزیشن لیڈر ملک احمد بچھر اپوزیشن کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ معین قریشی، رانا شہباز، علی امتیاز وڑائچ اور اعجاز شفیع کمیٹی میں شامل ہیں۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی کے چیمبر میں ملاقات جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
راؤ دلشاد:پنجاب حکومت کے کسان کارڈ پروگرام کے تحت صوبے میں پہلی بار 8 لاکھ 32 ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جس کے ذریعے کسانوں کو زرعی مداخل کی خریداری اور مالی معاونت کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 8 لاکھ 32 ہزار کاشتکار کسان کارڈ کے ذریعے 2 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد کے زرعی قرضے استعمال کر چکے ہیں۔ گندم کے سیزن کے دوران کاشتکاروں نے کسان کارڈ کے ذریعے 100 ارب روپے مالیت کی زرعی مداخل خریدیں۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکام کے مطابق 5 لاکھ 38 ہزار کاشتکاروں سے 67 ارب روپے کی رقم قابل وصول تھی، جس میں سے 86 فیصد ریکوری کا ریکارڈ قائم کیا گیا۔ کاشتکاروں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 57 ارب روپے کی اقساط بھی ادا کر دی ہیں۔
خریف سیزن کے لیے کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکاروں کو 90 ارب روپے کی سہولت فراہم کی گئی، جبکہ 3 لاکھ کاشتکاروں نے 30 ارب روپے مالیت کی زرعی مداخل اسی پروگرام کے تحت حاصل کیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ کسان کارڈ کے ذریعے پنجاب کے کاشتکاروں کی زندگی میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کا کاشتکار اب کسی آڑھتی کا مقروض نہیں ہوگا بلکہ باعزت اور خودمختار زندگی گزار سکے گا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
مریم نواز مزیدنے کہا کہ کاشتکاروں کو مالی خودمختاری اور خوشحالی کی راہ پر گامزن دیکھنا ان کا خواب ہے، اور حکومت زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کی فلاح کے لیے مزید اقدامات جاری رکھے گی۔