حصول آزادی سے تحفظ آزادی ہمارا ویژن ہے، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
صوبائی دارالحکومت کے الحمرا کلچرل کمپلیکس میں جشن آزادی کنسرٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و ثقافت کا کہنا تھا کہ آپریشن بنیان مرصوص کے بعد پاکستان ترقی کی منازل طے کر رہا ہے، بھارت کو پاک افواج نے دھول چٹائی، حصول آزادی سے تحفظ آزادی آج ہمارا تھیم ہے، ہم نے اپنی آزادی کا تحفظ کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے کہا ہے حصول آزادی سے تحفظ آزادی آج ہمارا ویژن ہے۔ صوبائی دارالحکومت کے الحمرا کلچرل کمپلیکس میں جشن آزادی کنسرٹ سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ گلوکار عاطف اسلم والد کے انتقال کے باوجود آج کے ایونٹ میں آئے ہیں، ہم اسی طرح کا ایک اور ایونٹ 6 ستمبر کو دوبارہ کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عاطف اسلم 6 ستمبر والے ایونٹ میں بھی پرفارم کریں گے، ہم اس ایونٹ کی ٹکٹ نہیں لگانا چاہتے تھے، لیکن بہت زیادہ رش کا خدشہ تھا، میں نے فیصلہ کیا ہے تمام لوگوں کی ٹکٹ کی رقم واپس کر دی جائے، یہ جشن آزادی کا خاص موقع ہے۔
وزیر اطلاعات و ثقافت کا کہنا تھا کہ آپریشن بنیان مرصوص کے بعد پاکستان ترقی کی منازل طے کر رہا ہے، بھارت کو پاک افواج نے دھول چٹائی، حصول آزادی سے تحفظ آزادی آج ہمارا تھیم ہے، ہم نے اپنی آزادی کا تحفظ کرنا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بھارت ملک کے مختلف حصوں میں اپنی پراکسیز کے ذریعے جنگ لڑ رہا ہے، ہم نے اپنی پاک افواج کے جوانوں کا حوصلہ بڑھانا ہے اللہ اس ملک کا تاقیامت سلامت رکھے اور ہمارا ملک ترقی کی تمام تر منازل طے کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی اس قوم کو جھکا نہیں سکتا، یہ قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کا بھرپور احساس کرتی ہے، وزیر اطلاعات نے گفتگو کے اختتام پر پاک افواج زندہ باد کا نعرے بھی لگایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حصول آزادی سے تحفظ آزادی وزیر اطلاعات کہنا تھا کہ پاک افواج
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔