یوم آزادی،وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان مونومنٹ میں پرچم کشائی کی اور یادگار شہدا پر پھول چڑھائے
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 اگست2025ء) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے یوم آزادی کے موقع پر پاکستان مونومنٹ میں پرچم کشائی کی اور یادگار شہدا پر پھول چڑھائے۔جمعرات کو یوم آزادی کے موقع پر یادگار شہدا پر مرکزی تقریب کا انعقاد ہواجس کے مہمان خصوصی وزیر اعظم محمد شہباز شریف تھے۔ علاقائی لباسوں میں ملبوس ننھے بچوں نے وزیر اعظم کو پھول پیش کئے جبکہ وزیر اعظم نے بچوں سے پیار کیا۔
اس موقع پر سائرن بجائے گئے اورقومی ترانے بجایا گیا۔(جاری ہے)
وزیر اعظم نے یادگار شہدا پر حاضری دی،پھول چڑھائے اورمادر وطن پر جان نچھاور کرنے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی بلندی درجات کے لئے فاتحہ خوانی کی۔اس موقع پر وزیر اعظم نے ملک کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے دعاکی۔اس موقع پر بچوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی،سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق،نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار،ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ ،وفاقی وزرا رانا تنویر حسین،عطاءاللہ تارڑ، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، سردار محمد یوسف ،پروفیسر احسن اقبال اور محمد حنیف عباسی کے علاؤہ بڑی تعداد میں ارکان قومی اسمبلی اور دیگر افراد نے شرکت کی۔
\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے یادگار شہدا پر
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔