یوم آزادی اتحاد، قربانی اور عزمِ نو کی یاد دہانی ہے: گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
گورنر سندھ کامران ٹیسوری—فائل فوٹو
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے 14 اگست یومِ آزادی پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پوری قوم کو یومِ آزادی بہت بہت مبارک ہو، یومِ آزادی اتحاد، قربانی اور عزمِ نو کی یاد دہانی ہے۔
کراچی سے اپنے پیغام میں گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان کی بقا ہمارے اتحاد اور محنت میں ہے، 10 مئی کے معرکۂ حق میں بھارت کو بدترین شکست پر امسال جشنِ آزادی بڑی دھوم دھام سے منایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزادی کی حفاظت ایمان، قربانی اور یک جہتی سے ممکن ہے، یومِ آزادی اس عہد کی تجدید ہے کہ پاکستان کو دنیا کا مضبوط ترین ملک بنائیں گے، نوجوان پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں، ترقی کا سفر انہی کے ہاتھوں مکمل ہو گا۔
گورنر سندھ نے یہ بھی کہا کہ قائدِ اعظم کا پاکستان عدل، مساوات اور محنت کا پاکستان ہے، 14 اگست ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گورنر سندھ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔