بٹ کوائن کی اونچی اڑان، قیمت 1 لاکھ 24 ہزار ڈالر سے تجاوز کرگئی
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
ایشیائی مارکیٹس میں بٹ کوائن کی قیمت پہلی بار تاریخ کی بلند ترین سطح1لاکھ 24ہزار ڈالر کی حد عبور کر گئی۔
جمعرات کو ایشیائی تجارتی اوقات کے آغاز میں بٹ کوائن کی قیمت نے نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 1 لاکھ 24 ہزار امریکی ڈالر کی حد عبور کی۔ یہ اضافہ امریکہ میں موافق قانون سازی اور امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بہتری کے باعث ہوا۔
جولائی میں قائم ہونے والے سابقہ ریکارڈ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بٹ کوائن کی قیمت مختصر وقت کے لیے 124،500 ڈالر سے تجاوز کر گئی، بعد ازاں قیمت میں معمولی کمی دیکھی گئی۔
اس کے علاوہ بدھ کے روز امریکی اسٹاکس میں بھی بہتری دیکھی گئی۔ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس اور ٹیکنالوجی سے متعلق نیسڈیک انڈیکس نے رواں ہفتے نئی بلندیوں کو چھوا، جس کا اثر کرپٹو کرنسی پر بھی پڑا۔
بٹ کوائن کی حالیہ قیمت میں اضافہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت ریگولیٹری تبدیلیوں سے بھی جڑا ہوا ہے، جو کرپٹو کے بڑے حامی تصور کیے جاتے ہیں۔
کرپٹو کرنسی کی قیمتوں کو ان بڑی کمپنیوں اور افراد سے بھی سہارا ملا ہے، جنہیں ”وہیلز“ کہا جاتا ہے یعنی وہ افراد یا ادارے جو بڑی مقدار میں کرپٹو اثاثے رکھتے ہیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بٹ کوائن کی کی قیمت
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔