ایشیا کپ: ہربھجن سنگھ نے پاکستان سے میچ کی مخالفت کردی
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
سابق بھارتی اسپنر ہربھجن سنگھ نے ایشیا کپ میں انڈین ٹیم کے پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی مخالفت کردی۔
انڈین میڈیا کے مطابق سابق بھارتی اسپنر ہربھجن سنگھ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت کو پاکستان کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کر دینا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے جوان گھر واپس نہیں آتے اور ہم کرکٹ کھیلنے چلے جاتے ہیں، یہ فوجیوں کی قربانیوں کا مذاق ہے، ہم انکو اتنی اہمیت کیوں دیتے ہیں؟۔۔
ہربھجن سنگھ نے کہا کہ ہماری حکومت کا مؤقف بھی یہی ہے کہ “خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے”۔
ایشیا کپ 2025 کا آغاز 9 ستمبر سے متحدہ عرب امارات میں ہوگا مگر ٹورنامنٹ سے قبل بھارتی میڈیا اور سابق کھلاڑی ہمیشہ کی طرح پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں۔
بھارت اور پاکستان کا میچ 14 ستمبر کو شیڈول ہے جو دونوں ممالک کے درمیان اپریل میں پہلگام حملے کے بعد پہلا ٹاکرا ہوگا۔ یاد رہے اس حملے کو جواز بنا کر بھارت نے پاکستان کے ساتھ ہر تعلق ختم کرنے کی کوشش کی اور کھیل کے میدان کو بھی سیاست زدہ کر دیا۔
بھارتی میڈیا اور کھلاڑیوں کے یہ بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت کھیل کے میدان میں بھی پاکستان کے خوف سے باہر نہیں نکل پایا۔ گویا کھیل کو بھی دشمنی کا ہتھیار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں کرکٹ شائقین پاکستان اور بھارت کا ٹاکرا دیکھنے کے لیے بے حد پرجوش ہیں لیکن بھارت کی جانب سے ایسی سیاست بازی کھیل کی روح کے خلاف ہے۔
پاکستانی عوام اور کھلاڑیوں کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ کرکٹ کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے، لیکن بھارت اپنی پرانی روش کے مطابق کھیل کو دشمنی اور نفرت پھیلانے کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہربھجن سنگھ نے پاکستان کے
پڑھیں:
پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو دہشت گردوں کو وسائل مہیا کررہا ہے۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کا کردار واضح ہے جو دہشت گردوں کو وسائل فراہم کررہا ہے، افغان عبوری حکومت دہشت گردی کو روکنے میں بالکل ناکام ہے، افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے،ہم نے افغانستان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو کنٹرول کرے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں صرف عوام قربانیاں نہیں دے رہے بلکہ اس میں ہماری لا اینڈ انفورسمنٹ ایجنسیز شامل ہیں، اس میں ہماری افواج پاکستان کے کڑیل جوان اور افسران شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں اب تک ہمارے 90 ہزار پاکستانی شہید ہوچکے ہیں اس جنگ کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو انہیں وسائل بھی مہیا کررہا ہے اور اس میں دیگر فیکٹرز بھی ملوث ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا جغرافیائی اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے، بہادر بلوچوں اور پختونوں نے پاکستان کے قیام میں بڑا کردار ادا کیا، ترقی کے دوڑ میں جب تک چاروں صوبے مساویانہ طور پر شریک نہیں ہوں گے پاکستان ترقی نہیں کرسکے گا اور میں یہ بات دل کی اتھاہ گہرائیوں سے قبول کرتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ بلوچستان کی ترقی میں وفاقی حکومت کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔
کوہاٹ میں ایکسائز اہلکاروں پر حملے کی مذمت
دریں اثنا وزیرِاعظم نے کوہاٹ میں ایکسائز اہلکاروں پر دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ وزیرِ اعظم نے واقعے میں سب انسپکٹر سجاد الاسلام اور کسٹم کانسٹیبل جواد کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا، شہدا کے اہل خانہ کے لیے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
وزیرِ اعظم نے متعلقہ اہلکاروں کو ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں قرار واقعہ سزا دلوانے کی ہدایت کی اور کہا کہ دہشت گردوں کے عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، شرپسند عناصر کو کسی صورت ملک کا امن تباہ کرنے نہیں دیں گے۔