بھارت نے اپنی شمال مشرقی سرحدوں پر تیزی سے رسائی اور دفاعی نقل و حرکت کو بہتر بنانے کے لیے ایک بڑے ریلوے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد نہ صرف دور دراز علاقوں کو مرکزی لاجسٹک نیٹ ورک سے جوڑنا ہے، بلکہ چین کے ساتھ ممکنہ سرحدی کشیدگی کے پیش نظر فوجی تیاریوں کو بھی مضبوط بنانا ہے۔

بین الاقوامی جریدے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، بھارت یہ نیا ریلوے انفراسٹرکچر ان علاقوں میں بچھا رہا ہے جو چین، بھوٹان، میانمار اور بنگلہ دیش کی سرحدوں کے ساتھ واقع ہیں۔ منصوبے کے تحت تقریباً 500 کلومیٹر طویل ریلوے لائنیں بچھائی جائیں گی، جن میں متعدد پل اور سرنگیں بھی شامل ہوں گی۔

منصوبے کی لاگت اور مدت

ابتدائی اندازوں کے مطابق، اس منصوبے پر 300 ارب بھارتی روپے (تقریباً 3.

4 ارب امریکی ڈالر) لاگت آئے گی، اور اسے آئندہ چار سالوں میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اگرچہ حالیہ مہینوں میں بھارت اور چین کے تعلقات میں بظاہر کچھ بہتری دیکھی گئی ہے، مگر یہ منصوبہ طویل المدتی اسٹریٹیجک سوچ کی غمازی کرتا ہے۔

سرحدی رسائی میں تیزی، دفاعی ردعمل میں بہتری

یہ ریلوے منصوبہ دراصل گزشتہ ایک دہائی میں سڑکوں کے نیٹ ورک کی بنیاد پر تعمیر کیا جا رہا ہے، جس میں اب تک 9,984 کلومیٹر طویل شاہراہیں تعمیر کی جا چکی ہیں جبکہ مزید 5,055 کلومیٹر سڑکیں زیرِ تعمیر ہیں۔ ان ریلوے لائنوں کے مکمل ہونے کے بعد بھارت کو سرحدی علاقوں میں قدرتی آفات، ہنگامی حالات یا فوجی نقل و حرکت کے دوران فوری ردعمل دینے میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔

ایوی ایشن اور دیگر دفاعی اپ گریڈیشن

  بھارت نے اپنے شمال مشرقی علاقوں میں 1962 کی جنگ کے دوران بنائے گئے لیکن بعد میں غیر فعال ہو جانے والے ایڈوانس لینڈنگ گراؤنڈز کو بھی دوبارہ فعال کرنا شروع کر دیا ہے، تاکہ ہیلی کاپٹروں اور فوجی طیاروں کی نقل و حرکت کو آسان بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ شمالی لداخ میں متنازعہ سرحدی علاقوں کے قریب مزید ریلوے لائنوں کی منصوبہ بندی بھی زیر غور ہے۔

نریندر مودی کی ترجیح: حساس علاقوں میں تیز رابطہ

وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی حکومت کے دوران خاص طور پر سرحدی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی تعمیر اور اپ گریڈیشن کو ترجیح دی ہے۔ رواں برس کے آغاز میں انہوں نے وادی کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والے دنیا کے بلند ترین ریلوے پل کا افتتاح بھی کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان سے متصل سرحد پر 1,450 کلومیٹر طویل نئی سڑکوں کی تعمیر اور ڈوکلام جیسے حساس علاقوں میں رسائی کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔
 چین بھی سرگرم
بھارت کی طرح چین نے بھی ڈوکلام میں 2017 کے تنازع کے بعد سرحدی علاقوں میں اپنی عسکری تیاریوں کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ چینی حکومت نے نہ صرف ہوائی اڈوں اور ہیلی پورٹس جیسے اسٹریٹیجک انفراسٹرکچر کی تعمیر کو تیز کیا بلکہ پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کی لاجسٹکس صلاحیتوں میں بھی نمایاں بہتری لائی ہے، جس سے فوجیوں اور عسکری ساز و سامان کی تیز رفتار نقل و حرکت ممکن ہو گئی ہے۔

Post Views: 6

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سرحدی علاقوں علاقوں میں نقل و حرکت

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار