بھارت کا چین کے ساتھ سرحدپر 500 کلومیٹر طویل ریلوےلائن بچھانے کا منصو بہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
بھارت نے اپنی شمال مشرقی سرحدوں پر تیزی سے رسائی اور دفاعی نقل و حرکت کو بہتر بنانے کے لیے ایک بڑے ریلوے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد نہ صرف دور دراز علاقوں کو مرکزی لاجسٹک نیٹ ورک سے جوڑنا ہے، بلکہ چین کے ساتھ ممکنہ سرحدی کشیدگی کے پیش نظر فوجی تیاریوں کو بھی مضبوط بنانا ہے۔
بین الاقوامی جریدے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، بھارت یہ نیا ریلوے انفراسٹرکچر ان علاقوں میں بچھا رہا ہے جو چین، بھوٹان، میانمار اور بنگلہ دیش کی سرحدوں کے ساتھ واقع ہیں۔ منصوبے کے تحت تقریباً 500 کلومیٹر طویل ریلوے لائنیں بچھائی جائیں گی، جن میں متعدد پل اور سرنگیں بھی شامل ہوں گی۔
منصوبے کی لاگت اور مدت
ابتدائی اندازوں کے مطابق، اس منصوبے پر 300 ارب بھارتی روپے (تقریباً 3.
سرحدی رسائی میں تیزی، دفاعی ردعمل میں بہتری
یہ ریلوے منصوبہ دراصل گزشتہ ایک دہائی میں سڑکوں کے نیٹ ورک کی بنیاد پر تعمیر کیا جا رہا ہے، جس میں اب تک 9,984 کلومیٹر طویل شاہراہیں تعمیر کی جا چکی ہیں جبکہ مزید 5,055 کلومیٹر سڑکیں زیرِ تعمیر ہیں۔ ان ریلوے لائنوں کے مکمل ہونے کے بعد بھارت کو سرحدی علاقوں میں قدرتی آفات، ہنگامی حالات یا فوجی نقل و حرکت کے دوران فوری ردعمل دینے میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔
ایوی ایشن اور دیگر دفاعی اپ گریڈیشن
بھارت نے اپنے شمال مشرقی علاقوں میں 1962 کی جنگ کے دوران بنائے گئے لیکن بعد میں غیر فعال ہو جانے والے ایڈوانس لینڈنگ گراؤنڈز کو بھی دوبارہ فعال کرنا شروع کر دیا ہے، تاکہ ہیلی کاپٹروں اور فوجی طیاروں کی نقل و حرکت کو آسان بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ شمالی لداخ میں متنازعہ سرحدی علاقوں کے قریب مزید ریلوے لائنوں کی منصوبہ بندی بھی زیر غور ہے۔
نریندر مودی کی ترجیح: حساس علاقوں میں تیز رابطہ
وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی حکومت کے دوران خاص طور پر سرحدی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی تعمیر اور اپ گریڈیشن کو ترجیح دی ہے۔ رواں برس کے آغاز میں انہوں نے وادی کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والے دنیا کے بلند ترین ریلوے پل کا افتتاح بھی کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان سے متصل سرحد پر 1,450 کلومیٹر طویل نئی سڑکوں کی تعمیر اور ڈوکلام جیسے حساس علاقوں میں رسائی کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔
چین بھی سرگرم
بھارت کی طرح چین نے بھی ڈوکلام میں 2017 کے تنازع کے بعد سرحدی علاقوں میں اپنی عسکری تیاریوں کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ چینی حکومت نے نہ صرف ہوائی اڈوں اور ہیلی پورٹس جیسے اسٹریٹیجک انفراسٹرکچر کی تعمیر کو تیز کیا بلکہ پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کی لاجسٹکس صلاحیتوں میں بھی نمایاں بہتری لائی ہے، جس سے فوجیوں اور عسکری ساز و سامان کی تیز رفتار نقل و حرکت ممکن ہو گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سرحدی علاقوں علاقوں میں نقل و حرکت
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور