روس میں 7.4 شدت کے زلزلے سے زمین لرز اُٹھی
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
روس میں 7.4 شدت کے زلزلے سے زمین لرز اُٹھی WhatsAppFacebookTwitter 0 13 September, 2025 سب نیوز
روس میں 7.4 شدت کے زلزلے سے زمین لرز گئی جس کے بعد سونامی کی وارننگ جاری کردی گئی ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے اطلاع دی ہے کہ ہفتے کے روز روس کے مشرق بعید میں کامچٹکا کے ساحل پر 7.4 شدت کا زلزلہ آیا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ روسی شہر پیٹرو پاولوسک کامچٹسکی سے 111 کلومیٹر (69 میل) مشرق میں، کامچٹکا کے علاقے کے انتظامی مرکز، 39.
سروے میں ابتدائی طور پر زلزلے کی شدت 7.5 بتائی گئی تھی لیکن بعد میں اسے کم کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ یہ زلزلہ اسی علاقے میں آیا ہے جہاں جولائی میں 8.8 شدت کا خوفناک زلزلہ آیا تھا۔ جولائی میں کامچاٹکا جزیرہ نما کے قریب ریکارڈ شدہ سب سے طاقتور زلزلوں میں سے ایک آیا تھا۔
اُس زلزلے کے نتیجے میں بحرالکاہل بھر میں 4 میٹر تک بلند سونامی کی لہریں اٹھیں تھیں، جس کے بعد ہوائی سے لے کر جاپان تک انخلاء کا عمل شروع کیا گیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکا نے 32 اداروں کو تجارتی پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا امریکا نے 32 اداروں کو تجارتی پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا خیبر پختونخوا کے ورلڈ بینک منصوبے میں 10 کروڑ 60 لاکھ روپے کا بڑا فراڈ نیپال میں معمولاتِ زندگی بحال: عارضی سیٹ اپ سے قبل فوجی سربراہ کی ملاقات ترک ہیکرز کی جانب سے ویڈیو کال نے اسرائیلی وزیر دفاع کا مذاق بنا دیا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کے2ریاستی حل کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور ٹرمپ کے مقتول ساتھی چارلی کرک کے مبینہ قاتل کو گرفتار کرلیا گیا، امریکی صدر کی تصدیقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔