عراق نے نتین یاہو کی بیہودگی کا جواب دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں فواد حسین کا کہنا تھا کہ عراق، صہیونی رژیم کے کسی بھی حملے کا سخت جواب دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ عراقی وزیر خارجہ "فواد حسین" نے کہا كہ ہم "نتین یاهو" کی باتوں کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ کسی بھی عراقی پر حملہ عراق کی خود مختاری پر حملہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عراق، صہیونی رژیم کے کسی بھی حملے کا سخت جواب دے گا۔ واضح رہے کہ نیتن یاہو نے آج اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران خطے کے مزاحمتی گروپوں کے خلاف ہمیشہ کی طرح الزامات لگائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل، عراقی مزاحمتی گروہوں کو تباہ کر دے گا۔ تاہم نتین یاہو کے ان دعووں کو عراق کی مقاومتی تحریک "النجباء" کے ترجمان "حسین الموسوی" نے کھوکھلا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی وزیراعظم ایسے بیان دے کر غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی جاری رکھنا چاہتا ہے۔ حسین الموسوی نے ان باتوں کو عالمی امن کے لئے خطرہ اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد نیتن یاہو کے بیانات اس کڑوی حقیقت سے فرار کی کوشش ہیں جس کا اسے، اس کی جعلی کابینہ اور اس رژیم کی فوج کو سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجباء تحریک، نیتن یاہو کے بیانات کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپنا ضمیر مردہ ہونے کی وجہ سے نیتن یاہو، امریکہ اور عرب مفاہمت پسند ممالک کے ساتھ مل کر اخلاقی اور انسانی گراوٹ کا شکار ہے۔ نجباء تحریک کے ترجمان نے نتین یاہو کو طنزیہ انداز میں عراقی مزاحمت کے اسرائیل پر حملوں کی نشان دہی کروائی۔ اس ضمن میں حسین الموسوی نے کہا کہ صہیونیوں نے پہلے ہی ان قوتوں کے حملوں کا مزہ چکھ لیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز