اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کے 8 بڑے جھوٹ
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
اسلام ٹائمز: پریس بیان میں اعلان کیا کہ غاصب صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی عوام کے خلاف جنگی جرائم اور نسل کشی کو جواز فراہم کرنے کے لیے اپنی تقریر میں آٹھ بڑے جھوٹ اور درجنوں جھوٹے دعوے کیے ہیں۔ خصوصی رپورٹ:
غزہ میں فلسطینی حکومت کے میڈیا آفس نے ایک پریس بیان میں اعلان کیا کہ غاصب صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی عوام کے خلاف جنگی جرائم اور نسل کشی کو جواز فراہم کرنے کے لیے اپنی تقریر میں آٹھ بڑے جھوٹ اور درجنوں جھوٹے دعوے کیے ہیں۔ اس بیان کے مطابق نیتن یاہو کی طرف سے پیش کیے گئے جھوٹ درج ذیل ہیں:
1۔ غزہ میں "قیدیوں" کو نہ بھولنے کا دعویٰ: جب کہ اس کی حکومت واضح طور پر انہی قیدیوں کی قسمت کی پرواہ کیے بغیر فلسطینیوں کے قتل، مکمل تباہی اور جبری ہجرت کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔
2۔ 7 اکتوبر کے بعد عالمی حمایت کے بارے میں جھوٹ: نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ عالمی رہنماؤں نے ان کی حمایت کی، جب کہ یہ حمایت ختم ہو چکی ہے اور آج زیادہ تر ممالک "اسرائیل" کے جرائم کی مذمت کرتے ہیں اور صیہونی بیانیہ کے جواز پر سوال اٹھاتے ہیں۔
3۔ عالمی رائے عامہ پر سوال اٹھانا: انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی رہنما "انتہا پسند اسلام پسندوں" کے دباؤ میں ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عالمی رائے عامہ ماضی کا جائزہ لے رہی ہے اور فلسطینی عوام کے حقوق پر زور دے رہی ہے۔
4۔ "سات محاذوں" پر جنگ کے بارے میں جھوٹ: نیتن یاہو نے ان جنگوں کو "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے طور پر متعارف کرایا، لیکن سچ یہ ہے کہ یہ جنگیں عام شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کے خلاف لڑی جا رہی ہیں۔ بین الاقوامی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ شہید ہونے والوں میں 94 فیصد عام شہری ہیں جن میں 30 ہزار سے زائد خواتین اور بچے شامل ہیں اور 90 فیصد سے زائد کی بڑے پیمانے پر تباہی صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں ریکارڈ کی گئی ہے۔
5۔ یہ دعویٰ کہ مزاحمت غزہ کے لوگوں کو نکلنے سے روک رہی ہے: یہ اس وقت ہے جب اس نے خود 700,000 لوگوں کے بے گھر ہونے کی بات کی تھی۔ غزہ کے مقامی اداروں نے بارہا اعلان کیا ہے کہ انہوں نے بے گھر ہونے والوں کی مدد کی ہے اور کسی کو وہاں سے نکلنے سے نہیں روکا ہے۔
6۔ شہریوں کو نشانہ نہ بنانے کے بارے میں جھوٹ: نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ چونکہ لوگوں کو اپنے علاقے چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا، اس لیے نسل کشی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ جبکہ اسرائیلی فوج نے رہائشی علاقوں پر 200,000 ٹن سے زائد بم گرائے، 20,000 بچوں اور 10,500 خواتین سمیت 64,000 سے زائد شہری شہید اور ہزاروں خاندانوں کا سول رجسٹری سے مکمل صفایا ہوگیا۔
7۔ امداد چوری کا الزام لگانا: انہوں نے دعویٰ کیا کہ مزاحمت انسانی امداد چوری کر رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قابض حکومت نے مسلح گروہوں کی حمایت کرتے ہوئے فاقہ کشی کی پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھا ہوا ہے اور 147 بچوں سمیت سیکڑوں شہری قحط کی وجہ سے شہید ہو چکے ہیں۔ صہیونی فوج نے "موت کے جال" بھی بچھائے ہیں اور سینکڑوں بھوکے لوگوں کو ہلاک، زخمی اور قید کر رکھا ہے۔
8۔ فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے حوالے سے تحریف: نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے سے یہودیوں کے قتل کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے لیکن حقیقت میں یہ فلسطینی عوام کے خلاف تاریخی ناانصافیوں کو درست کرنے اور 77 سال کے مصائب اور قبضے کے بعد ان کے جائز حقوق کے حصول کی طرف ایک تاخیری قدم ہے۔
غزہ حکومت کے میڈیا آفس نے زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کی تقریر حقائق کو مسخ کرنے اور جرائم کی قانونی ذمہ داری سے بچنے کی ایک بے نتیجہ کوشش ہے جو بین الاقوامی قانون کے مطابق "جنگی جرائم"، "انسانیت کے خلاف جرائم" اور "نسل کشی" کی واضح مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "جھوٹ حقیقت کو نہیں بدلتا، آج پہلے سے کہیں زیادہ، دنیا نے ایک استعماری طاقت کے طور پر صیہونی حکومت کی فطرت کو فریبکار، پرتشدد اور منظم قتل و غارت گر کے طور پر سمجھ لیا ہے۔"
آخر میں، غزہ میڈیا آفس نے قابض حکومت اور امریکی حکومت کو جاری انسانی تباہی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے نسل کشی اور قتل عام کو فوری طور پر بند کرنے، غزہ سے قابض افواج کے انخلاء، خوراک اور ادویات کے داخلے کے لیے گزرگاہوں کو کھولنے اور ریاست کی بحالی کے عمل میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطینی عوام کے نیتن یاہو نے اقوام متحدہ حکومت کے نے دعوی کے خلاف رہی ہے ہے اور کے لیے کیا کہ
پڑھیں:
بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ
بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔
نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔
بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔
حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔
ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔
تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔
کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔
2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان
دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز