Islam Times:
2026-06-03@04:24:44 GMT

اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کے 8 بڑے جھوٹ

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کے 8 بڑے جھوٹ

اسلام ٹائمز: پریس بیان میں اعلان کیا کہ غاصب صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی عوام کے خلاف جنگی جرائم اور نسل کشی کو جواز فراہم کرنے کے لیے اپنی تقریر میں آٹھ بڑے جھوٹ اور درجنوں جھوٹے دعوے کیے ہیں۔ خصوصی رپورٹ: 

غزہ میں فلسطینی حکومت کے میڈیا آفس نے ایک پریس بیان میں اعلان کیا کہ غاصب صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی عوام کے خلاف جنگی جرائم اور نسل کشی کو جواز فراہم کرنے کے لیے اپنی تقریر میں آٹھ بڑے جھوٹ اور درجنوں جھوٹے دعوے کیے ہیں۔ اس بیان کے مطابق نیتن یاہو کی طرف سے پیش کیے گئے جھوٹ درج ذیل ہیں:

1۔ غزہ میں "قیدیوں" کو نہ بھولنے کا دعویٰ: جب کہ اس کی حکومت واضح طور پر انہی قیدیوں کی قسمت کی پرواہ کیے بغیر فلسطینیوں کے قتل، مکمل تباہی اور جبری ہجرت کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔

2۔ 7 اکتوبر کے بعد عالمی حمایت کے بارے میں جھوٹ: نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ عالمی رہنماؤں نے ان کی حمایت کی، جب کہ یہ حمایت ختم ہو چکی ہے اور آج زیادہ تر ممالک "اسرائیل" کے جرائم کی مذمت کرتے ہیں اور صیہونی بیانیہ کے جواز پر سوال اٹھاتے ہیں۔

3۔ عالمی رائے عامہ پر سوال اٹھانا: انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی رہنما "انتہا پسند اسلام پسندوں" کے دباؤ میں ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عالمی رائے عامہ ماضی کا جائزہ لے رہی ہے اور فلسطینی عوام کے حقوق پر زور دے رہی ہے۔

4۔ "سات محاذوں" پر جنگ کے بارے میں جھوٹ: نیتن یاہو نے ان جنگوں کو "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے طور پر متعارف کرایا، لیکن سچ یہ ہے کہ یہ جنگیں عام شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کے خلاف لڑی جا رہی ہیں۔ بین الاقوامی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ شہید ہونے والوں میں 94 فیصد عام شہری ہیں جن میں 30 ہزار سے زائد خواتین اور بچے شامل ہیں اور 90 فیصد سے زائد کی بڑے پیمانے پر تباہی صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں ریکارڈ کی گئی ہے۔

5۔ یہ دعویٰ کہ مزاحمت غزہ کے لوگوں کو نکلنے سے روک رہی ہے: یہ اس وقت ہے جب اس نے خود 700,000 لوگوں کے بے گھر ہونے کی بات کی تھی۔ غزہ کے مقامی اداروں نے بارہا اعلان کیا ہے کہ انہوں نے بے گھر ہونے والوں کی مدد کی ہے اور کسی کو وہاں سے نکلنے سے نہیں روکا ہے۔

6۔ شہریوں کو نشانہ نہ بنانے کے بارے میں جھوٹ: نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ چونکہ لوگوں کو اپنے علاقے چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا، اس لیے نسل کشی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ جبکہ اسرائیلی فوج نے رہائشی علاقوں پر 200,000 ٹن سے زائد بم گرائے، 20,000 بچوں اور 10,500 خواتین سمیت 64,000 سے زائد شہری شہید اور ہزاروں خاندانوں کا سول رجسٹری سے مکمل صفایا ہوگیا۔

7۔ امداد چوری کا الزام لگانا: انہوں نے دعویٰ کیا کہ مزاحمت انسانی امداد چوری کر رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قابض حکومت نے مسلح گروہوں کی حمایت کرتے ہوئے فاقہ کشی کی پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھا ہوا ہے اور 147 بچوں سمیت سیکڑوں شہری قحط کی وجہ سے شہید ہو چکے ہیں۔ صہیونی فوج نے "موت کے جال" بھی بچھائے ہیں اور سینکڑوں بھوکے لوگوں کو ہلاک، زخمی اور قید کر رکھا ہے۔

8۔ فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے حوالے سے تحریف: نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے سے یہودیوں کے قتل کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے لیکن حقیقت میں یہ فلسطینی عوام کے خلاف تاریخی ناانصافیوں کو درست کرنے اور 77 سال کے مصائب اور قبضے کے بعد ان کے جائز حقوق کے حصول کی طرف ایک تاخیری قدم ہے۔

غزہ حکومت کے میڈیا آفس نے زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کی تقریر حقائق کو مسخ کرنے اور جرائم کی قانونی ذمہ داری سے بچنے کی ایک بے نتیجہ کوشش ہے جو بین الاقوامی قانون کے مطابق "جنگی جرائم"، "انسانیت کے خلاف جرائم" اور "نسل کشی" کی واضح مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "جھوٹ حقیقت کو نہیں بدلتا، آج پہلے سے کہیں زیادہ، دنیا نے ایک استعماری طاقت کے طور پر صیہونی حکومت کی فطرت کو فریبکار، پرتشدد اور منظم قتل و غارت گر کے طور پر سمجھ لیا ہے۔" 

آخر میں، غزہ میڈیا آفس نے قابض حکومت اور امریکی حکومت کو جاری انسانی تباہی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے نسل کشی اور قتل عام کو فوری طور پر بند کرنے، غزہ سے قابض افواج کے انخلاء، خوراک اور ادویات کے داخلے کے لیے گزرگاہوں کو کھولنے اور ریاست کی بحالی کے عمل میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فلسطینی عوام کے نیتن یاہو نے اقوام متحدہ حکومت کے نے دعوی کے خلاف رہی ہے ہے اور کے لیے کیا کہ

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان