علیمہ خان کیس: عدالتی حکم عدولی پر ایس ایچ او اور اے ایس آئی کو قید و جرمانے کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے علیمہ خان سمیت 10 افراد کے خلاف 26 نومبر کو ہونے والے احتجاج سے متعلق کیس میں عدالتی حکم عدولی پر سخت ایکشن لے لیا۔ عدالت نے تھانہ صادق آباد کے ایس ایچ او ندیم عباس اور اے ایس آئی شکیل کو گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے دونوں اہلکاروں کو 6، 6 ماہ قید اور 50، 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
یہ فیصلہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے سنایا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ دونوں پولیس افسران نے احتجاج کیس کے چالان کی تعمیل میں غفلت برتی، جس پر پہلےتوہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا گیا** تھا۔ تاہم بعد ازاں ان کے جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا۔
یاد رہے کہ علیمہ خان سمیت دیگر 9 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج کے سلسلے میں مقدمہ درج ہے، جس پر عدالت نے پولیس کو کارروائی کی ہدایت کی تھی، لیکن مقررہ وقت میں عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر یہ سخت فیصلہ سامنے آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عدالت نے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔