کرکٹ: بھارت کی عالمی سطح پر جگ ہنسائی
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250930-03-3
کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ برصغیر کی تاریخ، ثقافت اور سیاست میں ایک گہرا تعلق اس کے ساتھ ہے۔ جنوبی ایشیا کے عوام کے لیے یہ کھیل اہمیت کا حامل ہے اور کھیل کے کچھ آداب ہوتے ہیں اور باہمی احترام اس کا ہم تقاضا ہے۔ لیکن جب کوئی قوم اپنے سیاسی عزائم اور تنگ نظری کو کھیل کے میدان تک لے آئے تو نہ صرف کھیل کی اصل روح مجروح ہوتی ہے بلکہ عالمی سطح پر اس قوم کی اخلاقی حیثیت بھی سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ حالیہ ایشیا کپ 2025 کے فائنل میچ کے بعد بھارتی ٹیم کا رویہ اسی افسوسناک حقیقت کی تازہ مثال ہے۔ بھارتی ٹیم نے نہ صرف اسپورٹس مین اسپرٹ کی دھجیاں اُڑائیں بلکہ عالمی سطح پر اپنی چھوٹی ذہنیت اور غیر پیشہ ورانہ رویے کی بدترین مثال قائم کی۔ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میچ میں بھارت نے اگرچہ پاکستان کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دی اور ایونٹ جیتنے میں کامیاب رہا، مگر اس کے بعد پیش آنے والے واقعات نے فتح کو ذلت میں بدل دیا۔ بھارتی کھلاڑیوں نے صدر ایشین کرکٹ کونسل محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کردیا اور تقریب کو سبوتاژ کردیا۔ یہ وہ عمل تھا جس نے دنیا بھر کے کرکٹ شائقین اور تجزیہ کاروں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ بھارتی بورڈ اور مودی سرکار کی پالیسی ہمیشہ کھیل کو سیاست کے رنگ میں رنگنے کی رہی ہے۔ ماضی میں بھی بھارتی ٹیم نے کئی مواقع پر پاکستان کے خلاف کھیلنے سے انکار کیا، مشترکہ ایونٹس میں رکاوٹیں ڈالیں اور کھیل کے میدان کو اپنی سیاسی مہم جوئی کا حصہ بنایا۔ مگر ایشیا کپ 2025 کے فائنل کے بعد ہونے والی بدتمیزی اس سے بھی بڑھ کر تھی۔ کرکٹ جیسے شاندار کھیل میں ہار جیت معمول کا حصہ ہے، مگر اس کھیل کی اصل عظمت اس میں ہے کہ جیتنے والا فاتحانہ مگر عاجزی کے ساتھ خوشی منائے اور ہارنے والا وقار کے ساتھ اپنی شکست کو تسلیم کرے۔ بھارتی ٹیم نے اس بنیادی اصول کو روند ڈالا۔ اس نے اپنی جیت کو بھی ایک شرمندگی میں بدل ڈالا اور پوری دنیا کے سامنے خود کو ایک کم ظرف اور چھوٹی سوچ رکھنے والی ٹیم کے طور پر پیش کیا۔ بھارت کی اس حرکت کو نہ صرف کرکٹ کے حلقوں میں بلکہ عالمی میڈیا میں بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ بڑی بڑی عالمی خبر رساں ایجنسیوں اور اسپورٹس چینلوں نے واضح لکھا کہ بھارت نے اسپورٹس مین اسپرٹ کو پامال کر کے کرکٹ کو سیاست میں گھسیٹا ہے۔ اس واقعے نے یہ بھی ثابت کیا کہ بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ رویہ اس کے اس عمومی رویے کی عکاسی کرتا ہے جو وہ اپنے ہمسایہ ممالک، عالمی اداروں اور حتیٰ کہ اندرونی اقلیتوں کے ساتھ بھی اختیار کرتا ہے۔ ہٹ دھرمی، تکبر اور ضد، یہ وہ خصوصیات ہیں جنہوں نے بھارت کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کے ایک بار پھر بے نقاب کیا ہے۔ اے سی سی کے صدر محسن نقوی نے بھی بھارتی ٹیم کے اس غیر اخلاقی رویے کے سامنے سر نہ جھکایا۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے بھارتی ٹیم کے رویے کو سختی سے مسترد کیا اور ٹرافی حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ یہ مؤقف نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے کرکٹ شائقین کے لیے باعث ِ فخر ہے۔ یہ پیغام بھی گیا کہ کھیل کے اصول اور اس کی حرمت سب سے بالاتر ہیں، اور کوئی بھی ٹیم یا ملک اپنی ہٹ دھرمی کے ذریعے کھیل کے وقار کو مجروح نہیں کر سکتا۔ یہ پہلا موقع نہیں جب بھارتی ٹیم نے اسپورٹس مین اسپرٹ کے خلاف ورزی کی۔ ماضی میں بھی وہ پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار کرچکے ہیں اور مشترکہ تصاویر سے گریز کرتے رہے ہیں۔ یہ سب اس بات کا اظہار ہے کہ بھارتی قیادت اپنی ٹیم کو کھیل کی حقیقی روح کے مطابق چلانے کے بجائے اسے سیاسی بیانیے کا حصہ بناتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کھیل کے شائقین مایوسی کا شکار ہوتے ہیں اور بھارت اپنی ساکھ مزید کھو دیتا ہے۔ کھیل کے ماہرین کہتے ہیں کہ بھارتی ٹیم نے اگرچہ ایشیا کپ جیتا، لیکن وہ کھیل کے میدان میں اصل فتح حاصل نہ کر سکی۔ اصل فتح وہ ہوتی ہے جو عزت، احترام اور کھیل کے آداب کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ بھارت نے اپنی فتح کو خود ہی رسوائی میں بدل ڈالا۔ مودی سرکار اور بھارتی میڈیا کی اوچھی حرکتوں سے دنیا انجان نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سے پاکستان نے بھارت کے چھے طیارے گرائے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، تب سے بھارت مسلسل بوکھلاہٹ اور بے چینی کا شکار ہے۔ یہی کیفیت اب کھیل کے میدان میں بھی جھلک رہی ہے۔ لیکن بھارت نے اسے بھی اپنی تنگ نظری، انا پرستی اور انتہا پسندی کا ہتھیار بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بھارت کا تاثر ایک غیر ذمے دار اور انا پرست ملک کے طور پر ابھر رہا ہے، جو اپنی چھوٹی سوچ کی وجہ سے عزت حاصل کرنے کے بجائے جگ ہنسائی کماتا ہے۔ ایشیا کپ 2025 کا فائنل نے کرکٹ شائقین کو بھارتی رویے کی وجہ سے مایوس کیا ہے۔ بھارت نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا کہ وہ بڑی جیت بھی چھوٹی ذہنیت کے ساتھ نہیں سنبھال سکتا۔ بھارتی ٹیم اور قیادت اس وقت بدترین مقام پر کھڑی ہے، اور وہ بھی ایک رسوائی کے استعارے کے طور پر؟ یہ ہٹ دھرمی، یہ ضد اور یہ تنگ نظری نہ صرف بھارت کے کھیل بلکہ اس کی عالمی ساکھ کے لیے بھی ایک بدنما داغ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کھیل کے میدان بھارتی ٹیم نے عالمی سطح پر بھارت نے کہ بھارت ایشیا کپ سے انکار کے ساتھ میں بھی کے بعد
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔