Jasarat News:
2026-06-03@02:48:56 GMT

کرکٹ: بھارت کی عالمی سطح پر جگ ہنسائی

اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250930-03-3

 

کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ برصغیر کی تاریخ، ثقافت اور سیاست میں ایک گہرا تعلق اس کے ساتھ ہے۔ جنوبی ایشیا کے عوام کے لیے یہ کھیل اہمیت کا حامل ہے اور کھیل کے کچھ آداب ہوتے ہیں اور باہمی احترام اس کا ہم تقاضا ہے۔ لیکن جب کوئی قوم اپنے سیاسی عزائم اور تنگ نظری کو کھیل کے میدان تک لے آئے تو نہ صرف کھیل کی اصل روح مجروح ہوتی ہے بلکہ عالمی سطح پر اس قوم کی اخلاقی حیثیت بھی سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ حالیہ ایشیا کپ 2025 کے فائنل میچ کے بعد بھارتی ٹیم کا رویہ اسی افسوسناک حقیقت کی تازہ مثال ہے۔ بھارتی ٹیم نے نہ صرف اسپورٹس مین اسپرٹ کی دھجیاں اُڑائیں بلکہ عالمی سطح پر اپنی چھوٹی ذہنیت اور غیر پیشہ ورانہ رویے کی بدترین مثال قائم کی۔ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میچ میں بھارت نے اگرچہ پاکستان کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دی اور ایونٹ جیتنے میں کامیاب رہا، مگر اس کے بعد پیش آنے والے واقعات نے فتح کو ذلت میں بدل دیا۔ بھارتی کھلاڑیوں نے صدر ایشین کرکٹ کونسل محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کردیا اور تقریب کو سبوتاژ کردیا۔ یہ وہ عمل تھا جس نے دنیا بھر کے کرکٹ شائقین اور تجزیہ کاروں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ بھارتی بورڈ اور مودی سرکار کی پالیسی ہمیشہ کھیل کو سیاست کے رنگ میں رنگنے کی رہی ہے۔ ماضی میں بھی بھارتی ٹیم نے کئی مواقع پر پاکستان کے خلاف کھیلنے سے انکار کیا، مشترکہ ایونٹس میں رکاوٹیں ڈالیں اور کھیل کے میدان کو اپنی سیاسی مہم جوئی کا حصہ بنایا۔ مگر ایشیا کپ 2025 کے فائنل کے بعد ہونے والی بدتمیزی اس سے بھی بڑھ کر تھی۔ کرکٹ جیسے شاندار کھیل میں ہار جیت معمول کا حصہ ہے، مگر اس کھیل کی اصل عظمت اس میں ہے کہ جیتنے والا فاتحانہ مگر عاجزی کے ساتھ خوشی منائے اور ہارنے والا وقار کے ساتھ اپنی شکست کو تسلیم کرے۔ بھارتی ٹیم نے اس بنیادی اصول کو روند ڈالا۔ اس نے اپنی جیت کو بھی ایک شرمندگی میں بدل ڈالا اور پوری دنیا کے سامنے خود کو ایک کم ظرف اور چھوٹی سوچ رکھنے والی ٹیم کے طور پر پیش کیا۔ بھارت کی اس حرکت کو نہ صرف کرکٹ کے حلقوں میں بلکہ عالمی میڈیا میں بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ بڑی بڑی عالمی خبر رساں ایجنسیوں اور اسپورٹس چینلوں نے واضح لکھا کہ بھارت نے اسپورٹس مین اسپرٹ کو پامال کر کے کرکٹ کو سیاست میں گھسیٹا ہے۔ اس واقعے نے یہ بھی ثابت کیا کہ بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ رویہ اس کے اس عمومی رویے کی عکاسی کرتا ہے جو وہ اپنے ہمسایہ ممالک، عالمی اداروں اور حتیٰ کہ اندرونی اقلیتوں کے ساتھ بھی اختیار کرتا ہے۔ ہٹ دھرمی، تکبر اور ضد، یہ وہ خصوصیات ہیں جنہوں نے بھارت کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کے ایک بار پھر بے نقاب کیا ہے۔ اے سی سی کے صدر محسن نقوی نے بھی بھارتی ٹیم کے اس غیر اخلاقی رویے کے سامنے سر نہ جھکایا۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے بھارتی ٹیم کے رویے کو سختی سے مسترد کیا اور ٹرافی حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ یہ مؤقف نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے کرکٹ شائقین کے لیے باعث ِ فخر ہے۔ یہ پیغام بھی گیا کہ کھیل کے اصول اور اس کی حرمت سب سے بالاتر ہیں، اور کوئی بھی ٹیم یا ملک اپنی ہٹ دھرمی کے ذریعے کھیل کے وقار کو مجروح نہیں کر سکتا۔ یہ پہلا موقع نہیں جب بھارتی ٹیم نے اسپورٹس مین اسپرٹ کے خلاف ورزی کی۔ ماضی میں بھی وہ پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار کرچکے ہیں اور مشترکہ تصاویر سے گریز کرتے رہے ہیں۔ یہ سب اس بات کا اظہار ہے کہ بھارتی قیادت اپنی ٹیم کو کھیل کی حقیقی روح کے مطابق چلانے کے بجائے اسے سیاسی بیانیے کا حصہ بناتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کھیل کے شائقین مایوسی کا شکار ہوتے ہیں اور بھارت اپنی ساکھ مزید کھو دیتا ہے۔ کھیل کے ماہرین کہتے ہیں کہ بھارتی ٹیم نے اگرچہ ایشیا کپ جیتا، لیکن وہ کھیل کے میدان میں اصل فتح حاصل نہ کر سکی۔ اصل فتح وہ ہوتی ہے جو عزت، احترام اور کھیل کے آداب کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ بھارت نے اپنی فتح کو خود ہی رسوائی میں بدل ڈالا۔ مودی سرکار اور بھارتی میڈیا کی اوچھی حرکتوں سے دنیا انجان نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سے پاکستان نے بھارت کے چھے طیارے گرائے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، تب سے بھارت مسلسل بوکھلاہٹ اور بے چینی کا شکار ہے۔ یہی کیفیت اب کھیل کے میدان میں بھی جھلک رہی ہے۔ لیکن بھارت نے اسے بھی اپنی تنگ نظری، انا پرستی اور انتہا پسندی کا ہتھیار بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بھارت کا تاثر ایک غیر ذمے دار اور انا پرست ملک کے طور پر ابھر رہا ہے، جو اپنی چھوٹی سوچ کی وجہ سے عزت حاصل کرنے کے بجائے جگ ہنسائی کماتا ہے۔ ایشیا کپ 2025 کا فائنل نے کرکٹ شائقین کو بھارتی رویے کی وجہ سے مایوس کیا ہے۔ بھارت نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا کہ وہ بڑی جیت بھی چھوٹی ذہنیت کے ساتھ نہیں سنبھال سکتا۔ بھارتی ٹیم اور قیادت اس وقت بدترین مقام پر کھڑی ہے، اور وہ بھی ایک رسوائی کے استعارے کے طور پر؟ یہ ہٹ دھرمی، یہ ضد اور یہ تنگ نظری نہ صرف بھارت کے کھیل بلکہ اس کی عالمی ساکھ کے لیے بھی ایک بدنما داغ ہے۔

 

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کھیل کے میدان بھارتی ٹیم نے عالمی سطح پر بھارت نے کہ بھارت ایشیا کپ سے انکار کے ساتھ میں بھی کے بعد

پڑھیں:

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب ہو گئے ہیں جسے عالمی سفارت کاری میں بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے وزیر برائے چٹاگانگ ہل ٹریکٹس افیئرز خرابی صحت کے باعث مستعفی

منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے انتخاب میں ڈاکٹر خلیل الرحمان نے قبرص کے امیدوار کو شکست دے کر یہ اہم منصب حاصل کیا۔

مبصرین کے مطابق یہ کامیابی عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار، کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اداروں میں اس کی مضبوط ہوتی ساکھ کا مظہر ہے۔

وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور مثبت کردار کا اعتراف ہے۔

مزید پڑھیے: سابق صدر بنگلہ دیش ضیاء الرحمان کی 45ویں برسی: صاحبزادے و وزیراعظم طارق رحمان کا خراج عقیدت

اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا صدر منتخب ہونے پر وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اس اہم منصب پر بنگلہ دیش کی بہترین نمائندگی کریں گے اور عالمی برادری کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطوں، مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ وہ بنگلہ دیش کا نام مزید روشن کریں گے اور عالمی مسائل کے حل کے لیے تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ان کی نئی ذمہ داریوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں چمڑے کی منڈی بحران کا شکار، مدارس اور یتیم خانوں کو خسارہ، وجہ کیا ہے؟

ڈاکٹر خلیل الرحمان جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے باقاعدہ آغاز پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس حیثیت میں وہ عالمی امن و سلامتی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، عالمی حکمرانی اور دیگر اہم بین الاقوامی امور پر ہونے والے مباحث اور اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب طارق رحمان کی ڈاکٹر خلیل رحمان کو مبارکباد

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی