Jasarat News:
2026-07-24@03:44:53 GMT

کرکٹ: بھارت کی عالمی سطح پر جگ ہنسائی

اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250930-03-3

 

کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ برصغیر کی تاریخ، ثقافت اور سیاست میں ایک گہرا تعلق اس کے ساتھ ہے۔ جنوبی ایشیا کے عوام کے لیے یہ کھیل اہمیت کا حامل ہے اور کھیل کے کچھ آداب ہوتے ہیں اور باہمی احترام اس کا ہم تقاضا ہے۔ لیکن جب کوئی قوم اپنے سیاسی عزائم اور تنگ نظری کو کھیل کے میدان تک لے آئے تو نہ صرف کھیل کی اصل روح مجروح ہوتی ہے بلکہ عالمی سطح پر اس قوم کی اخلاقی حیثیت بھی سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ حالیہ ایشیا کپ 2025 کے فائنل میچ کے بعد بھارتی ٹیم کا رویہ اسی افسوسناک حقیقت کی تازہ مثال ہے۔ بھارتی ٹیم نے نہ صرف اسپورٹس مین اسپرٹ کی دھجیاں اُڑائیں بلکہ عالمی سطح پر اپنی چھوٹی ذہنیت اور غیر پیشہ ورانہ رویے کی بدترین مثال قائم کی۔ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میچ میں بھارت نے اگرچہ پاکستان کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دی اور ایونٹ جیتنے میں کامیاب رہا، مگر اس کے بعد پیش آنے والے واقعات نے فتح کو ذلت میں بدل دیا۔ بھارتی کھلاڑیوں نے صدر ایشین کرکٹ کونسل محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کردیا اور تقریب کو سبوتاژ کردیا۔ یہ وہ عمل تھا جس نے دنیا بھر کے کرکٹ شائقین اور تجزیہ کاروں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ بھارتی بورڈ اور مودی سرکار کی پالیسی ہمیشہ کھیل کو سیاست کے رنگ میں رنگنے کی رہی ہے۔ ماضی میں بھی بھارتی ٹیم نے کئی مواقع پر پاکستان کے خلاف کھیلنے سے انکار کیا، مشترکہ ایونٹس میں رکاوٹیں ڈالیں اور کھیل کے میدان کو اپنی سیاسی مہم جوئی کا حصہ بنایا۔ مگر ایشیا کپ 2025 کے فائنل کے بعد ہونے والی بدتمیزی اس سے بھی بڑھ کر تھی۔ کرکٹ جیسے شاندار کھیل میں ہار جیت معمول کا حصہ ہے، مگر اس کھیل کی اصل عظمت اس میں ہے کہ جیتنے والا فاتحانہ مگر عاجزی کے ساتھ خوشی منائے اور ہارنے والا وقار کے ساتھ اپنی شکست کو تسلیم کرے۔ بھارتی ٹیم نے اس بنیادی اصول کو روند ڈالا۔ اس نے اپنی جیت کو بھی ایک شرمندگی میں بدل ڈالا اور پوری دنیا کے سامنے خود کو ایک کم ظرف اور چھوٹی سوچ رکھنے والی ٹیم کے طور پر پیش کیا۔ بھارت کی اس حرکت کو نہ صرف کرکٹ کے حلقوں میں بلکہ عالمی میڈیا میں بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ بڑی بڑی عالمی خبر رساں ایجنسیوں اور اسپورٹس چینلوں نے واضح لکھا کہ بھارت نے اسپورٹس مین اسپرٹ کو پامال کر کے کرکٹ کو سیاست میں گھسیٹا ہے۔ اس واقعے نے یہ بھی ثابت کیا کہ بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ رویہ اس کے اس عمومی رویے کی عکاسی کرتا ہے جو وہ اپنے ہمسایہ ممالک، عالمی اداروں اور حتیٰ کہ اندرونی اقلیتوں کے ساتھ بھی اختیار کرتا ہے۔ ہٹ دھرمی، تکبر اور ضد، یہ وہ خصوصیات ہیں جنہوں نے بھارت کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کے ایک بار پھر بے نقاب کیا ہے۔ اے سی سی کے صدر محسن نقوی نے بھی بھارتی ٹیم کے اس غیر اخلاقی رویے کے سامنے سر نہ جھکایا۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے بھارتی ٹیم کے رویے کو سختی سے مسترد کیا اور ٹرافی حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ یہ مؤقف نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے کرکٹ شائقین کے لیے باعث ِ فخر ہے۔ یہ پیغام بھی گیا کہ کھیل کے اصول اور اس کی حرمت سب سے بالاتر ہیں، اور کوئی بھی ٹیم یا ملک اپنی ہٹ دھرمی کے ذریعے کھیل کے وقار کو مجروح نہیں کر سکتا۔ یہ پہلا موقع نہیں جب بھارتی ٹیم نے اسپورٹس مین اسپرٹ کے خلاف ورزی کی۔ ماضی میں بھی وہ پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار کرچکے ہیں اور مشترکہ تصاویر سے گریز کرتے رہے ہیں۔ یہ سب اس بات کا اظہار ہے کہ بھارتی قیادت اپنی ٹیم کو کھیل کی حقیقی روح کے مطابق چلانے کے بجائے اسے سیاسی بیانیے کا حصہ بناتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کھیل کے شائقین مایوسی کا شکار ہوتے ہیں اور بھارت اپنی ساکھ مزید کھو دیتا ہے۔ کھیل کے ماہرین کہتے ہیں کہ بھارتی ٹیم نے اگرچہ ایشیا کپ جیتا، لیکن وہ کھیل کے میدان میں اصل فتح حاصل نہ کر سکی۔ اصل فتح وہ ہوتی ہے جو عزت، احترام اور کھیل کے آداب کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ بھارت نے اپنی فتح کو خود ہی رسوائی میں بدل ڈالا۔ مودی سرکار اور بھارتی میڈیا کی اوچھی حرکتوں سے دنیا انجان نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سے پاکستان نے بھارت کے چھے طیارے گرائے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، تب سے بھارت مسلسل بوکھلاہٹ اور بے چینی کا شکار ہے۔ یہی کیفیت اب کھیل کے میدان میں بھی جھلک رہی ہے۔ لیکن بھارت نے اسے بھی اپنی تنگ نظری، انا پرستی اور انتہا پسندی کا ہتھیار بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بھارت کا تاثر ایک غیر ذمے دار اور انا پرست ملک کے طور پر ابھر رہا ہے، جو اپنی چھوٹی سوچ کی وجہ سے عزت حاصل کرنے کے بجائے جگ ہنسائی کماتا ہے۔ ایشیا کپ 2025 کا فائنل نے کرکٹ شائقین کو بھارتی رویے کی وجہ سے مایوس کیا ہے۔ بھارت نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا کہ وہ بڑی جیت بھی چھوٹی ذہنیت کے ساتھ نہیں سنبھال سکتا۔ بھارتی ٹیم اور قیادت اس وقت بدترین مقام پر کھڑی ہے، اور وہ بھی ایک رسوائی کے استعارے کے طور پر؟ یہ ہٹ دھرمی، یہ ضد اور یہ تنگ نظری نہ صرف بھارت کے کھیل بلکہ اس کی عالمی ساکھ کے لیے بھی ایک بدنما داغ ہے۔

 

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کھیل کے میدان بھارتی ٹیم نے عالمی سطح پر بھارت نے کہ بھارت ایشیا کپ سے انکار کے ساتھ میں بھی کے بعد

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا