بنوں میں خوارج کی بزدلانہ کارروائی، رابطہ پل دھماکے سے تباہ، عوام میں شدید غم و غصہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
بنوں کی تحصیل جانی خیل میں خوارج نے دھماکا خیز مواد سے رابطہ پل تباہ کر دیا، جس پر عوام نے شدید ردعمل دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بنوں کی تحصیل جانی خیل کے علاقے مالی خیل میں خوارج نے سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، خوارج نے رابطہ پل کے نیچے بارودی مواد نصب کیا، جس کے پھٹنے سے پل مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔
واقعے کے بعد اہلِ علاقہ نے خوارج کے خلاف شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔ اہلِ علاقہ نے اس بزدلانہ کارروائی کی مذمت کی اور اسے علاقے کے امن و ترقی پر کھلا حملہ قرار دیا۔
اہلِ علاقہ نے کہا کہ تمام سڑکیں، مساجد اور مدارس عوامی سہولت کے لیے بنائے گئے ہیں۔ خوارج کے یہ بزدلانہ حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے، یہ خوارج چاہے افغانی ہوں یا کسی اور شناخت سے تعلق رکھتے ہوں، ان کا یہ عمل سراسر غلط ہے۔
اہلِ علاقہ کا کہنا تھا کہ خوارج کی یہ حرکات صرف عوام کو تکلیف دینے اور نقصان پہنچانے کے مترداف ہیں، یہ تمام حملے اسلام کے قطعی منافی ہیں خوارج اگر واقعی مسلمان ہوتے تو ایسا ہرگز نہ کرتے۔
ذرائع کے مطابق اہلِ علاقہ کا کہنا تھا کہ پل کی تباہی کے بعد کئی بیمار اور ضعیف افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، خوارج اگر اتنا ہی طاقتور ہیں تو بزدلانہ حملوں کی بجائے سامنے آکر مقابلہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔