بھارت اور پاکستان کی ویمنز ٹیمیں مصافحہ کریں گی یا نہیں؟ سوال زیر بحث
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
ایشیا کپ کو متنازع بنانے کے بعد بھارتی میڈیا نے ویمنز ورلڈکپ کے خلاف ماحول بنانا شروع کردیا۔
ایونٹ کے آغاز سے قبل یہ سوال اٹھایا جانے لگا کہ اس میں بھارت اور پاکستان کی ویمنز ٹیمیں مصافحہ کریں گی یا نہیں۔
بی سی سی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہرمن پریت کور اور ان کی ٹیم کو اس حوالے سے ابھی کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہے، دونوں ٹیموں کا مقابلہ قریب آنے پر اصل پوزیشن واضح ہوگی۔
ایک آفیشل کا کہنا ہے کہ یہ آئی سی سی کا ایونٹ ہے، جو پروٹوکول موجود ہوگا اس پر عمل کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ ایشیا کپ سے قبل بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو نے ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے مصافحہ کیا تھا، جس پر بھارت میں اتناشور مچا کے سوریا کمار پاکستانی پلیئرز کی جانب دیکھنے سے بھی گھبرانے لگے اور آخر میں انہوں نے محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے بھی انکار کردیا تھا۔
ویمن کرکٹ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک 11 ون ڈے اور 16 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جاچکے ہیں جن میں سے پاکستان ویمنز ٹیم نے تین ٹی ٹوئنٹی میں فتح حاصل کی جبکہ ون ڈے میں ایک بھی میچ نہیں جیت سکی۔
پاکستان اور بھارت کی ویمنز ٹیمیں پانچ اکتوبر کو کولمبو میں مدمقابل آئیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :