آئرلینڈ کی اسرائیل پر تنقید، غزہ فلوٹیلا پر حملہ بین الاقوامی بحری قوانین کیخلاف ورزی قرار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈبلن :آئرلینڈ کے وزیراعظم (تاؤسیخ) میہل مارٹن نے غزہ کی جانب امداد لے جانے والےگلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بین الاقوامی بحری قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئرلینڈ کے وزیراعظم نے کہا کہ اگر یہ حملہ بین الاقوامی پانیوں میں کیا گیا ہے تو یہ یقیناً عالمی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
وزیراعظم مارٹن کا کہنا تھا کہ یہ مشن خالصتاً انسانی بنیادوں پر تھا جس سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں تھا، اس کا مقصد صرف غزہ کے عوام تک امداد پہنچانا اور دنیا کو ان کی حالتِ زار کی طرف متوجہ کرنا تھا، غزہ میں فوری طور پر انسانی ہمدردی کی امداد پہنچانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئرش شہریوں سمیت تمام گرفتار کارکنوں کو قونصلر مدد فراہم کی جائے گی اور یہ نہایت اہم ہے کہ انہیں انسانی وقار کے مطابق برتاؤ ملے۔
خیال رہےکہ فلوٹیلا منتظمین کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے غزہ جانے والے بین الاقوامی قافلے پر حملہ کرکے کم از کم 223 کارکنوں کو گرفتار کیا، جن کا تعلق مختلف ممالک سے تھا،گلوبل صمود فلوٹیلا نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ان کارکنوں کے نام اور قومیتوں کی تفصیلات جاری کیں۔ گرفتار کارکنوں میں اسپین، اٹلی، برازیل، ترکی، یونان، امریکا، جرمنی، سویڈن، برطانیہ اور فرانس سمیت متعدد ممالک کے شہری شامل ہیں۔
یاد رہے کہ غزہ گزشتہ 18 برس سے اسرائیلی محاصرے میں ہے اور مارچ 2025 میں اسرائیل نے ناکہ بندی کو مزید سخت کرتے ہوئے سرحدی گزرگاہیں بند کر دی تھیں۔ اس اقدام نے خوراک اور ادویات کی ترسیل روک کر علاقے میں بھوک اور بیماریوں کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ غزہ تیزی سے ناقابلِ رہائش خطہ بنتا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔