چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے  دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نےکہا ہے کہ اسرائیل دو سال سے فلسطین پر خوفناک بمباری کر رہا ہے جس کی وجہ سے اب تک 75 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور دو لاکھ سے زائد کو شدید زخمی کر دیا گیا ۔ اسرائیل کی سفاکانہ بمباری کا نشانہ بننے والوں میں معصوم بچے اور خواتین نمایاں طور پر شامل ہیں، مسلم ممالک کی بار بار کی کوششوں کے باوجود اب تک اسرائیل نے فلسطین پر حملے بند نہیں کئے اسی وجہ سے اسرائیل کے اندر سے بھی نیتن یاہو کے خلاف شدید احتجاج ہو رہا ہے اسکے علاوہ غزہ پر کی جانے والی اسرائیلی بربریت کے خلاف امریکہ یورپ سمیت پوری دنیا سے شدید رد عمل سامنے آ رہا ہے
اپنے ایک خصوصی بیان میں  انہوں نے کہا  کہ غزہ کی مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے پوری دنیا سے موڈ فلوٹیلا بچوں کے لئے خوراک، پانی دودھ اور ادویات لیکر فلسطین کی جانب روانہ ہوا جو عالمی برادری کے مثبت رویے کی عکاسی کرتا ہے.

اٹلی، فرانس، جرمنی، برطانیہ، سپین، ناروے، سویڈن، ڈنمارک، انڈونیشیا، ملائشیا، اور پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک کے 40 سے زائد جہاز اور کشتیاں غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی امداد کے لئے غزہ پہنچے. یہ تمام انسان انسانیت کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں. قوم سینیٹر مشتاق کے خلوص, اور انسانیت کے لئے دردمندی کا سبق سیکھے.

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ سینیٹر مشتاق احمد خان اپنی جان پر کھیل کر طویل سمندری سفر طے کرتے ہوئے غزہ کی حدود میں پہنچے جہاں اسرائیلی فوج نے انہیں گرفتار کر لیا . اپنی جانوں پر کھیلتے ہوئے پاکستان سے سینیٹر مشتاق احمد خان کی سربراہی میں مختصر سا قافلہ بچوں کے لئے ادویات ، دودھ اور خوراک لے کر صمود فلوٹیلا میں غزہ پہنچا جہاں اسرائیلی فوج نے انہیں گرفتار کر لیا. سینیٹر مشتاق احمد خان نے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کیلئے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر خطرناک سفر کیا. انہوں نے پوری قوم کی نمائندگی کی. ان کا جذبہ اور حوصلہ لائق تحسین ہے. انہوں نے بہادری کی شاندار مثال پیش کی ہے. اسرائیلی فوج نے لاکھوں انسانوں کو شہید کر دیا ہے. وہ انکی جان بھی لے سکتی ہے قوم کو انکی فکر ہے، حکومت سینیٹر مشتاق کی بحفاظت واپسی کیلئے ہر ممکن اقدامات بروئے کار لائے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سینیٹر مشتاق کے لئے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے