data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251006-2-16
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) سینئر وائس چیئرمین حیدرآباد سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری عامر شہاب نے کہا ہے کہ نارا جیل کے باہر سائٹ کی مرکزی سڑک پر غیر قانونی دیوار کی تعمیر اور تجاوزات کے معاملے پر ایسوسی ایشن نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ایک تفصیلی خط انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات سندھ کو ارسال کیا، جس کی کاپیاں متعلقہ وزراء، سائٹ لمیٹڈ کے افسران و دیگر حکام اور اداروں کو بھی بھیجی گئیں۔خط میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی تھی کہ جیل انتظامیہ سائٹ کی مرکزی سڑک پر دیوار تعمیر کر رہی ہے جو کہ نہ صرف منظور شدہ نقشوں کے خلاف ہے بلکہ سندھ حکومت کے ریونیو نوٹیفکیشنز (1952 اور 1953) کے مطابق الاٹ شدہ سائٹ زمین پر غیر قانونی قبضہ بھی ہے۔ مزید یہ کہ 2002 کے سروے ڈیپارٹمنٹ اور 2017 کے سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ کے احکامات کے تحت کیے گئے سروے بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ زمین سائٹ لمیٹڈ کی ملکیت ہے نارا جیل کی نہیں۔انہوں نے کہا کہ خدشہ ہے کہ اس غیر قانونی دیوار اور نالی (drain) کی تعمیر سے بھاری گاڑیوں کے لیے راستہ تنگ ہو جائے گا جس سے انڈسٹریل ایریا میں سامان اور خام مال کی ترسیل بری طرح متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس خط اور ایسوسی ایشن کی بروقت کاوشوں کے نتیجے میں متعلقہ اداروں نے فوری ایکشن لیتے ہوئے نا صرف غیر قانونی تعمیر کو روک دیا گیا ہے بلکہ نئے سرے سے حد بندی بھی کی جارہی ہے۔سینئر وائس چیئرمین عامر شہاب نے کہا کہ یہ اقدام صنعتکار برادری کے لیے اطمینان بخش ہے اور اس سے بزنس کمیونٹی کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات سندھ، وزیر برائے انڈسٹریز، صدر حیدرآبادچیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری، سیکریٹری صنعت و تجارت، ایم ڈی سائٹ، سیکریٹری سائٹ، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد، اسٹیٹ انجینئر سائٹ سمیت تمام متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بروقت ایکشن لے کر سائٹ کے قانونی اختیارات کا احترام کیا۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایسوسی ایشن نے کہا

پڑھیں:

مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد

مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔

واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔

پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟