تل ابیب: اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس کے ساتھ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جاری مذاکرات ناکام ہوئے تو اسرائیل غزہ میں فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دے گا۔ 

جنرل ضمیر نے اپنی فوجی کمانڈروں سے خطاب میں کہا کہ موجودہ وقت جنگ بندی نہیں بلکہ "آپریشنل صورتحال میں تبدیلی" ہے اور مذاکرات ناکامی کی صورت میں آپریشنز پھر بحال کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائیوں سے حاصل ہونے والی فیلڈ میں کامیابیاں سیاسی مذاکرات میں وزن دے رہی ہیں، مگر اگر سیاسی راستہ ناکافی رہا تو فورسز کو دوبارہ میدان میں لانا پڑے گا۔ یہ بیان اس وقت آیا ہے جب حماس اور بین الاقوامی ثالث یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے معاملات پر بات چیت کر رہے ہیں۔

بعد ازاں امریکی صدارت کی جانب سے بھی اشارہ دیا گیا تھا کہ حماس اگر غزہ کا کنٹرول چھوڑنے سے انکار کرے تو سخت نتیجے بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ عسکری اور سیاسی قیادت کی یہ پیشین گوئیاں مذاکراتی عمل اور کشیدگی دونوں کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان