مودی راج میں مسلمانوں پر مظالم کی انتہا، مساجد و قبروں کی توہین معمول بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت میں مودی سرکار کے دور میں ہندوتوا نظریہ پوری شدت کے ساتھ غالب آ چکا ہے، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنتی جا رہی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اتر پردیش سے لے کر متھرا تک پولیس اور ریاستی ادارے ہندو انتہا پسند تنظیموں کے زیرِ اثر آ چکے ہیں۔ بھارتی میڈیا دی وائر کی رپورٹ کے مطابق متھرا کو مقدس شہر قرار دیے جانے کے بعد سے وہاں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں گوشت کی دکانیں اور ہوٹل بند کر دیے گئے ہیں، جس کے سبب سیکڑوں خاندانوں کا روزگار ختم ہو گیا ہے۔
ریاستی پولیس کو گائے کے تحفظ کے قوانین کے تحت وسیع اختیارات حاصل ہیں، جنہیں صرف مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ جھوٹے مقدمات، ناحق گرفتاریاں اور بلاوجہ تلاشیوں کا سلسلہ عام ہو چکا ہے۔
صورتحال اس قدر خوفناک ہو گئی ہے کہ مسلمان گوشت خریدنے یا کھانے سے بھی گریز کرنے لگے ہیں تاکہ انتہا پسندوں کے حملوں سے بچ سکیں۔
رپورٹ کے مطابق متھرا اور دیگر شہروں میں ہندو شدت پسند رہنما مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرتے ہیں، انہیں “دیمک” کہہ کر بلاتے ہیں جب کہ مسلم نوجوان خود کو محفوظ رکھنے کے لیے زعفرانی رنگ کے کپڑے پہننے پر مجبور ہیں۔ یہ سب اس بات کا مظہر ہے کہ بھارت میں ہندوتوا کے عروج نے مذہبی آزادی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
مزید افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے قبرستانوں کے قریب کچرے کے ڈھیر لگائے جا رہے ہیں، جب کہ مساجد کے اردگرد بیت الخلا تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
کئی مقامات پر مساجد پر قبضوں، اذان پر پابندی اور مسلم آبادیوں میں گھروں کی مسماری کی کارروائیاں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات آر ایس ایس کے اُس ایجنڈے کا حصہ ہیں جو بھارت کو ’’ہندو راشٹر‘‘ میں تبدیل کرنے کے لیے سرگرم ہے۔
سماجی ماہرین کے مطابق بھارت میں بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ ملک کے سیکولر آئین اور جمہوری تشخص کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا۔
ویسٹ انڈیز کی قیادت روسٹن چیز کریں گے جبکہ جومیل واریکن کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔
اسکواڈ میں جوشوا بیشپ، تیج نارائن چندرپال، جوشوا ڈی سلوا، جسٹن گریوز، کیوم بوج، شے ہوپ، عامر جینگو، شیمار جوزف، برینڈن کنگ، کرک میک کینزی، گڈاکیش موتی، کیمو پال، کیمار روچ، جیڈن سیلز اور جومیل واریکن شامل ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز 25 جولائی سے ہوگا۔
View this post on Instagramقومی ٹیم نے آخری مرتبہ 2023 میں سری لنکا کو اس کی سرزمین پر 2-0 سے ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی، تاہم اس کے بعد پاکستان مسلسل سات بیرونِ ملک ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے۔
اس سیریز میں پاکستان کی قیادت دوبارہ بابر اعظم کر رہے ہیں جنہیں شان مسعود کی جگہ ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔